مون سون کے رم جھم چسکے اور آپ کی صحت

راجہ نوید
کالی گھٹائیں، مٹی کی سوندھی خوشبو اور بارش کی رم جھم ہر دل کو موہ لیتی ہے۔ ایسے سحر انگیز موسم میں ہر عام و خاص کا دل چاہتا ہے کہ وہ گرم گرم چائے کے ساتھ کڑھائی سے نکلتے ہوئے پکوڑے، سموسے اور تلی ہوئی غذائیں نوش کرے۔ ہماری روایات میں بارش کا استقبال کڑاہی چڑھا کر ہی کیا جاتا ہے اور ذائقے کے شوقین افراد اس موسم کو طرح طرح کے چٹپٹے کھانوں، میٹھے مشروبات اور بازار کی چٹخارے دار چیزوں کے ساتھ منایا کرتے ہیں۔ لیکن جہاں یہ بارشیں روح کو طراوت بخشتی ہیں اور دل کو خوشی دیتی ہیں، وہیں ہماری ذرا سی بے احتیاطی اور ان چٹخارے دار غذاؤں کا مسلسل استعمال ہمارے معدے اور اندرونی نظام کے لیے خاموش تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔
جب ہم بارش کے دلکش ماحول میں تلی ہوئی اشیاء کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں تو ہم دراصل اپنے نظامِ ہضم کو ایک سخت امتحان میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ بازاروں میں زیادہ تر تلی ہوئی چیزوں کے لیے ریفائنڈ یا بار بار گرم کیا گیا تیل استعمال کیا جاتا ہے، جس میں اومیگا سکس فیٹی ایسڈز کی مقدار حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہ گہرا تلا ہوا کھانا ہماری آنتوں کی حساس ترین اندرونی دیواروں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ ہماری آنتوں میں اربوں مفید بیکٹیریا کا ایک قدرتی نظام موجود ہوتا ہے جو نہ صرف خوراک کو ہضم کرتا ہے بلکہ ہماری قوتِ مدافعت کا پاسبان بھی ہوتا ہے۔ زیادہ تلی ہوئی اور چکنائی سے بھرپور اشیاء جب اندر جاتی ہیں تو یہ اس نازک مائیکرو بائیوم توازن کو بگاڑ دیتی ہیں، جس سے معدے کی سوزش، تیزابیت اور نظامِ ہضم کی ابتری پیدا ہوتی ہے۔
اسی طرح بارش کے اس دلکش موسم میں میٹھے کا چسکا بھی کچھ کم نہیں ہوتا۔ گرما گرم جلیبیاں، گلاب جامن یا پھر مختلف قسم کے شربت اور بوتلیں اس خوشگوار فضا کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ مگر طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اضافی چینی ہمارے نظامِ ہضم کے لیے زہرِ قاتل کی مانند ہے۔ چینی جب جسم میں داخل ہوتی ہے تو یہ ہمارے معدے اور آنتوں میں موجود نقصان دہ الجھنیں پیدا کرنے والے جراثیم کی خوراک بن جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں نقصان دہ بیکٹیریا تیزی سے پروان چڑھتے ہیں، وہاں صحت بخش اور مفید جراثیم کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ چینی کے مسلسل اور بے تحاشا استعمال سے آنتوں کی بافتوں میں سوزش بڑھتی ہے اور انسان مستقل پیٹ کے پھولنے، گیس، اور بھاری پن جیسے ناگوار مسائل میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
موجودہ دور میں صحت اور فِٹنس کا شعور رکھنے والے بہت سے لوگ عام چینی سے بچنے کے لیے مصنوعی مٹھاس یا ڈائٹ مصنوعات کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ مصنوعی مٹھاس بھی ہمارے نظامِ ہضم کی دوست نہیں ہے۔ انسانی آنتیں ان مصنوعی کیمیائی اجزا کو قدرتی طور پر تسلیم کرنے اور ہضم کرنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ جب یہ کیمیائی مادے معدے میں پہنچتے ہیں تو مفید بیکٹیریا کا پورا توازن متزلزل ہو جاتا ہے اور نقصان دہ جراثیم کو بڑھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی مٹھاس پر مشتمل اشیاء سے بھی معدے میں وہی خرابی پیدا ہوتی ہے جو عام پروسیس شدہ چینی سے جنم لیتی ہے۔
اجکل کے مشغولیاتِ زندگی میں ایک نیا رجحان پروٹین بارز اور شیکس کا بھی نظر آتا ہے۔ لوگ ان کو ایک صحت بخش متبادل سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مصنوعات شدید پروسیس شدہ ہوتی ہیں جن میں مختلف قسم کے مصنوعی رنگ، ذائقے، مصنوعی مٹھاس اور کیمیکلز ملائے جاتے ہیں۔ جب ہم مون سون کے سست موسم میں ان الٹرا پروسیس شدہ اور تجارتی غذاؤں پر انحصار بڑھاتے ہیں تو ہماری آنتوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ یہ مصنوعی مادے آنتوں کی قدرتی سوزش کو بڑھاتے ہیں، جس سے نہ صرف معدے کی بیماریاں جنم لیتی ہیں بلکہ جسم کا پورا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔
مون سون کا موسم صحت اور تازگی کا پیغام لے کر آتا ہے، بشرطیکہ ہم ذائقے اور صحت کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کریں۔ بارش کی رم جھم سے لطف اندوز ہونا ہمارا حق ہے، لیکن اگر ہم اپنی خوراک میں تلی ہوئی چٹپٹی اشیاء اور اضافی چینی کو محدود کر کے قدرتی فائبر، دہی، اور گھریلو سادہ غذاؤں کو ترجیح دیں تو ہم معدے اور آنتوں کے اس خوبصورت توازن کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔



