نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں تاکہ گورننس میں بہتری آ سکے، بیرسٹر عقیل ملک

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ نئے صوبے لسانیت کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہئیں، نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں تاکہ گورننس میں بہتری آ سکے، اس تمام بحث میں سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ ہونا ضروری ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ یہ سسٹم کی ناکامی نہیں ہے، سسٹم فیل نہیں ہوا، طرزِ حکمرانی کی کمزوریاں ہیں وہ آج سے نہیں کافی ٹائم سے ہیں، محسن نقوی نے درست کہا کہ حکومت اور وزیراعظم محنت کر رہے ہیں۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ وقت کے ساتھ سیاسی جماعتوں کےا ندر اور ان کی پالیسیوں، گورننس اسٹرکچر کے اندر جو جدت آنی چاہیے وہ سسٹم میں نہیں آسکی،  اگر اصلاحات نہ ہوئیں تو گورننس کے مسائل رہیں گے۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ مسائل حل کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، سیاستدان پالیسیاں بنا کر دیتے ہیں، قانون سازی کرتے ہیں عمل درآمد بیوروکریسی کو کرنا ہوتا ہے، بیوروکریسی میں اصلاحات کی ضرورت ہے، گورننس کے مسائل کے حل کے لیے موثر گورننس اسٹرکچر ضروری ہے۔

عقیل ملک نے کہا کہ کل جو بحث شروع ہوئی ہے اس کے بعد سیاستدان، سول سوسائٹی اور اسٹیک ہولڈرز بیٹھیں، بات چیت ہونی چاہیے کہ گورننس کو بہتر کرنے کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button