دہشتگردوں سے اب کوئی بات چیت کی گنجائش نہیں،ہتھیارڈالنا ہوں گےیاانجام بھگتناہوگا،ڈی جی آئی ایس پی آر

819 پاکستانی دہشت گردی کی نذر، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (جانوڈاٹ پی کے) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے اب کسی قسم کی بات چیت کی گنجائش نہیں رہی، انہیں ہتھیار ڈالنا ہوں گے، بصورت دیگر سیکیورٹی فورسز انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے رواں سال دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار 348 آپریشن کیے، جن میں 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں مجموعی طور پر 819 پاکستانی شہید ہوئے، جن میں 303 فوجی اہلکار، 194 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 322 شہری شامل ہیں۔

رواں سال 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک: ڈی جی آئی ایس پی آر

انہوں نے بتایا کہ رواں سال 28 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے بیشتر کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ ان کے بقول ٹانک اور کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کی معاونت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی اب کوئی گنجائش نہیں، انہیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ورنہ سیکیورٹی فورسز انہیں ختم کر دیں گی۔

بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ صوبے کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہارڈ اسٹیٹ نہیں بلکہ آئین اور قانون کے مطابق چلنے والی ریاست ہے، جہاں بلاامتیاز قانون کا نفاذ کیا جاتا ہے۔

بلوچستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اصل اسٹیک ہولڈرز عوام ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری پہچان ہے اور بلوچستان کے عوام ہی صوبے کے اصل اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں جو اپنے مفادات کے لیے صوبے کا استحصال جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بعض بااثر طبقات نہیں چاہتے کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل کرے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حقوق کی بات کرنے والے کیا اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور بھارت میں صرف ڈی این اے کا فرق ہے، جبکہ پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر مختلف محاذوں پر ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

مزید خبریں

Back to top button