گھوٹکی:کچے میں ایک لاکھ سے زائد بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے بوسٹرڈوزلگانےکافیصلہ

گھوٹکی(رپورٹ:وجے کمار چاولا )ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بوسٹر ڈوز لگانے کا فیصلہ۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر آفس میرپور ماتھیلو میں سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور میڈیا رپورٹرز کے لیے ایک آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت نے یونیسف کے تعاون سے ڈی سی کمپلیکس میرپور ماتھیلو کے کمیٹی روم میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا، جس میں ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد، چیئرمین ضلع کونسل بنگل خان مہر، وائس چیئرمین میر بابر خان لنڈ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر راؤ آفتاب، متعلقہ افسران، سماجی تنظیموں کے نمائندگان اور میڈیا رپورٹرز نے شرکت کی۔ سیمینار کو بریفنگ دیتے ہوئے یونیسف کے ڈاکٹر رحیم گڈانی نے بتایا کہ 8 اگست سے 15 اگست تک تحصیل گھوٹکی کے کچے کی 6 یونین کونسلوں، قادرپور، محمد خان گھوٹو، سندرانی، جمال، وسطی قطب شاہ اور باگو ڈھو، جبکہ اوباوڑو کچے کی 4 یونین کونسلوں، چانڈیا، بانڈ، رونتی اور وسطی جیون شاہ میں ایک لاکھ 8 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے تحت جیٹ انجیکٹر کے ذریعے بوسٹر ڈوز بھی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بچوں کا مدافعتی نظام مزید مضبوط ہوگا اور وہ پولیو سمیت مختلف بیماریوں سے بہتر تحفظ حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پیدائش سے چار ماہ تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ چار ماہ سے 10 سال تک کی عمر کے بچوں کو بوسٹر ڈوز بھی دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جیٹ انجیکٹر میں سوئی استعمال نہیں ہوتی، اس لیے بچوں کو کسی قسم کی تکلیف یا درد محسوس نہیں ہوگا۔ اس موقع پر چیئرمین ضلع کونسل بنگل خان مہر نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے متعلقہ یونین کونسلوں کے منتخب نمائندوں اور لوکل گورنمنٹ کے عملے کو ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کونسل کی جانب سے محکمہ صحت کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ سماجی تنظیموں اور میڈیا کے ساتھ اس سیمینار کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا ہے تاکہ درست اور مثبت معلومات عام لوگوں تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر پولیو مہم کے بارے میں بے بنیاد افواہیں پھیلاتے رہتے ہیں، جس سے عوام میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی افواہوں کا مؤثر تدارک صرف درست اور مثبت معلومات کی فراہمی سے ہی ممکن ہے



