اپنے مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کریں گے، شرجیل میمن

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے آزاد کشمیر کے انتخابات، سیاسی گرفتاریوں، جمہوری عمل اور ملکی سیاست سے متعلق مسلم لیگ (ن) پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنے عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کرے گی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگر قانون کی تشریح اور فیصلے کرنے کا اختیار چند افراد تک محدود کر دیا جائے تو پھر قانون کی کتابیں بند کر دینی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک صحافی کو محض ایک ٹویٹ کرنے پر گرفتار کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے حقیقی ووٹ سے منتخب ہونے والے کبھی انتقامی سیاست نہیں کرتے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کو جب بھی اقتدار ملا، وہ عوامی مینڈیٹ کے بجائے متنازع انتخابی نتائج کے ذریعے ملا، اس لیے اس جماعت کو کبھی غیر متنازع عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں ہوا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں اور انہیں ہر مناسب آئینی و قانونی فورم پر پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے عوامی مینڈیٹ کی مبینہ چوری ہرگز قبول نہیں کرے گی اور اس کے تحفظ کے لیے ہر قانونی راستہ اختیار کرے گی، تاہم انتخابی عمل کا بائیکاٹ نہیں کیا جائے گا بلکہ جمہوری طریقے سے مقابلہ جاری رکھا جائے گا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سیاسی جدوجہد، جمہوری روایات اور قومی خدمات کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار نمایاں رہا ہے۔ ان کے مطابق 1973 کا آئین دینے اور ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے میں پیپلز پارٹی نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے پاکستان کو جدید میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کی راہ پر گامزن کیا۔
انہوں نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تھر سے پیدا ہونے والی بجلی آج پورے پاکستان کو روشن کر رہی ہے اور برقی گاڑیاں (الیکٹرک وہیکلز) متعارف کرانے کا اعزاز بھی سب سے پہلے سندھ حکومت کو حاصل ہوا، جس کے بعد دیگر صوبوں نے اس کی پیروی کی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چند نشستوں کے حصول کے لیے صوبائیت اور لسانیت کو ہوا دینا قومی وحدت کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں بھی ان کی جماعت کو اپنی جیتی ہوئی نشستوں سے کم نشستیں دی گئیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے نام پر ماورائے عدالت کارروائیاں قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔ اگر فیصلے پولیس نے ہی کرنے ہیں تو پھر عدالتی نظام کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
شرجیل میمن نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس جماعت میں کوئی سیاسی تدبر اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ وزیراعظم شہباز شریف ہیں، جبکہ پنجاب میں حکمرانی کرنے والے عناصر اپنے ہی وزیراعظم کے خلاف سازشوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو یہ حقیقت ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اصل طاقت عوام کے مینڈیٹ سے آتی ہے، نمائشی اقتدار دیرپا نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی آئین، قانون اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے مؤقف کے لیے ہر جمہوری اور قانونی فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔



