ماں نے3بچوں کو کیسے مارا،زہرکیسےمنگوایا،کتنے پیسے دیئے؟پولیس نے ویلنشیا میں دردناک واقعہ کا پردہ چاک کردیا

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور میں ماں اور اس کے تین بچوں کی پراسرار زہر خورانی سے ہلاکت کے کیس میں پولیس تفتیش کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ تحقیقات میں دو نئے کردار بھی سامنے آئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں کی والدہ علینہ نے مبینہ طور پر زہر اپنے ایک دوست سے منگوایا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ علینہ نے زہر براہِ راست اپنے گھر منگوانے کے بجائے اپنی سابقہ کالج سہیلی کے پتے پر پارسل کے ذریعے منگوایا۔تفتیش کے مطابق جوہر ٹاؤن میں رہائش پذیر خاتون، جو 2005 میں علینہ کی کالج فیلو رہ چکی ہے، کے گھر ویلنشیاء ٹاؤن سے زہر پر مشتمل پارسل پہنچایا گیا۔ پولیس نے مذکورہ خاتون کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
ادھر فرانزک تحقیقات میں گھر سے ملنے والے برتنوں پر سب سے زیادہ بچوں کی والدہ کے فنگر پرنٹس پائے گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شواہد، فرانزک رپورٹس اور دیگر معلومات کی روشنی میں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتائج آنے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجوہات اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا۔
لاہور کے علاقے ویلنشیاء ٹاؤن میں ماں اور تین بچوں کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے موبائل ریکارڈ کی مدد سے رائیڈر اور دکاندار سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق خاتون نے امریکا میں سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں کیمیکل فروخت کرنے والے ایک شخص سے رابطہ کیا اور زہر حاصل کرنے کی کوشش کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون نے مطلوبہ زہر امریکا بھیجنے کا کہا، تاہم دکاندار نے انکار کردیا، جس کے بعد خاتون نے پاکستان میں چونگی امرسدھو کے ایک دکاندار سے زہر خریدا۔
پولیس کے مطابق خاتون نے زہر کی رقم منی ایکسچینج کے ذریعے ادا کی، زہر کے عوض ایک لاکھ 38 ہزار روپے دیے گئے، جبکہ دکاندار نے یہی زہر اکبری منڈی سے 6 ہزار روپے میں خریدا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق خاتون نے دکاندار کو بتایا تھا کہ وہ پاکستان آکر زہر اپنی دوست کے گھر منگوائے گی۔ خاتون کے پاکستان پہنچنے کے بعد زہر دوست کے گھر منگوایا گیا، جسے رائیڈر واقعے سے ایک روز قبل علینہ کے گھر پہنچا کر گیا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا ہے کہ خاتون اکثر موبائل فون پر خود کو اور اہلخانہ کو ختم کرنے کے طریقے تلاش کرتی تھی۔
پولیس نے موبائل ریکارڈ کی بنیاد پر رائیڈر، دکاندار سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر مزید تفتیش جاری ہے۔



