ٹیکس چوری میں ملوث افراد و کاروبار کا تعین کرکے انکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے، وزیرِ اعظم کی ہدایت

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں محصولات میں اضافے، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی اصلاحات پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مختلف معاشی شعبوں میں ٹیکس استعداد کا تعین کرنے کے لیے جامع اور سائنسی طریقہ کار تیار کیا جائے تاکہ ٹیکس نیٹ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے پاور سیکٹر کے ساتھ تعاون بڑھاتے ہوئے غیر رسمی معاشی سرگرمیوں اور ٹیکس چوری میں ملوث افراد و کاروباروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کے پیداواری شعبے اور ایف بی آر کے اعداد و شمار میں مکمل ہم آہنگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف بی آر کا نصب کردہ ٹریکنگ سسٹم مؤثر اور کامیاب انداز میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دیانت داری سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد اور کاروبار ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے برآمدی اور مقامی صنعتوں کو ٹیکس کے حوالے سے بھرپور سہولتیں فراہم کی ہیں اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں موجود ہوں تاکہ کاروباری برادری کے مسائل بروقت سنے اور حل کیے جا سکیں۔
وزیراعظم نے مزید ہدایت دی کہ ٹیکسٹائل، مشروبات، اسٹیل، پولٹری، خوردنی تیل و گھی اور ٹائرز کے شعبوں میں پیداوار کی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام دسمبر 2026 تک مکمل طور پر فعال کیا جائے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف بی آر میں تمام تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔ وزیراعظم نے افسران کی جانچ کے نئے نظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی فہرست مرتب کی جائے تاکہ انہیں یومِ آزادی کے موقع پر ایوارڈز سے نوازا جا سکے۔
وزیراعظم نے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے فوری طور پر تھرڈ پارٹی آڈٹ اور ویلیڈیشن کرانے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں ٹریکنگ سسٹم مکمل طور پر فعال ہے، جبکہ مزید پانچ شعبوں میں اس کا نفاذ آخری مراحل میں ہے، جن کی مجموعی ٹیکس استعداد 700 ارب روپے سے زائد ہے۔ مزید نو پیداواری شعبوں میں ٹریکنگ نظام پر کام جاری ہے، جس سے 560 ارب روپے کی اضافی ٹیکس استعداد حاصل ہونے کی توقع ہے۔
افرادی قوت سے متعلق اصلاحات پر بتایا گیا کہ نئے افسران کی تربیت ملک کی ممتاز جامعات کے تعاون سے بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جا رہی ہے، جبکہ موجودہ افسران کی استعداد بڑھانے کے لیے بھی جدید تربیتی پروگرام جاری ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پیئر ریویو سسٹم کے بعد کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو کی اہم پوسٹوں پر اچھی شہرت کے حامل افسران تعینات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہتر کارکردگی پر انعام اور ناقص کارکردگی پر احتساب کا نظام بھی نافذ کیا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق شفافیت بڑھانے کے لیے 957 تھرڈ پارٹی آڈیٹرز تعینات کیے جا چکے ہیں، جبکہ فیس لیس کسٹمز سسٹم کے تحت 280 گڈز ایویلیوایٹرز کی بھرتی جاری ہے، جس سے سامان کی کلیئرنس کا وقت کم اور ریونیو میں اضافہ ہوا ہے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات میں غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کم کرنے کے لیے کیس اسکرونٹی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے، جبکہ متبادل تنازعاتی حل (ADRCs) فورم کے تحت جون 2026 تک 377 درخواستوں میں سے 152 درخواستیں 90 روز کے اندر نمٹا دی گئیں، جس کے نتیجے میں 54 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ممکن ہوئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔



