غزہ:اسرائیلی فضائی حملوں میں مسجد شہید، خیمے تباہ، سیکڑوں فلسطینی بے گھر

غزہ(جانوڈاٹ پی کے)غزہ کے وسطی علاقے میں اسرائیل کے فضائی حملے میں مسجد شہید اور بے گھر فلسطینیوں کے خیمے تباہ ہوگئے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد بے گھر ہوگئے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق غزہ سٹی کے وسطی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک مسجد اور بے گھر فلسطینیوں کے رہائشی خیمے تباہ ہو گئے، جس کے باعث سیکڑوں افراد ایک بار پھر بے گھر ہو گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ سٹی کے وسطی علاقے میں قائم ینگ مینز کرسچن ایسوسی ایشن (وائی ایم سی اے) کے قریب واقع المتقین مسجد کو نشانہ بنایا، جس سے مسجد مکمل طور پر شہید ہوگئی۔
فضائی حملے میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے باعث بے گھر ہونے والے خاندانوں کے رہائشی خیمے بھی تباہ ہو گئے اور قریبی گھروں اور شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد سیکڑوں فلسطینی پناہ سے محروم ہو گئے جبکہ علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تباہ ہونے والے خیموں میں وہ خاندان مقیم تھے جو اسرائیلی حملوں میں اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھر ہو کر انتہائی دشوار حالات اور بنیادی ضروریات کی محدود سہولیات کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں وائی ایم سی اے ایک سماجی ادارہ ہے جو مذہب کی تفریق کے بغیر نوجوانوں، کھیل، سماجی اور انسانی ہمدردی کی خدمات فراہم کرتا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے 10 اکتوبر 2025 کو ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود غزہ کی پٹی پر روزانہ حملے جاری ہی۔
غزہ کی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے رواں ماہ کے اوائل میں بتایا تھا کہ اسرائیلی حملوں میں جنگ سے قبل موجود 1,275 مساجد میں سے 1,050 مکمل طور پر تباہ اور 191 جزوی طور پر متاثر ہو چکی ہیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق 8 اکتوبر 2023 سے غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، غزہ کا تقریباً90 فیصد شہری انفرا اسٹرکچر بھی تباہ ہو چکا ہے۔



