پنجاب میں سیلابی صورتحال سنگین، دریائے چناب اور راوی میں پانی بڑھنے سے آبادیاں، فصلیں اور قبرستان متاثر

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) دریائے چناب اور دریائے راوی میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ زمینی کٹاؤ، حفاظتی بند ٹوٹنے اور سیلابی پانی کے آبادیوں میں داخل ہونے سے شہریوں اور کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور حفاظتی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

علی پور چٹھہ کے نواحی علاقے کوٹ بیلہ میں دریائے چناب کے سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے۔ تیز زمینی کٹاؤ کے باعث درجنوں مکانات خطرے کی زد میں آ گئے ہیں، جبکہ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی دریا برد ہو گئی اور کھڑی فصلوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ترنڈہ محمد پناہ کے علاقے بیٹ پرارہ میں بستی بڈا پرارہ کے قریب دریائے چناب کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی تیزی سے قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ مقامی افراد کے مطابق کماد، مونگ، تل اور چارہ جات سمیت متعدد فصلیں زیرِ آب آ چکی ہیں، جبکہ کئی دیہات کے زمینی راستے منقطع ہونے کے باعث مکین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے سیلاب کے نقصانات سے ابھی مکمل طور پر سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ ایک بار پھر سیلاب نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے فوری حفاظتی اقدامات اور امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریائے چناب کے سیلابی ریلے سے گرنہ پٹھاناں کا مشترکہ قبرستان بھی شدید زمینی کٹاؤ کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں متعدد قبریں دریا برد ہو گئیں جبکہ کئی دیگر قبروں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر محسن اقبال ڈھلوں نے متاثرہ مقام کا ہنگامی دورہ کیا، جبکہ انتظامیہ نے حفاظتی بند کی تعمیر اور پانی کا رخ موڑنے کے لیے بھاری مشینری کے ذریعے کام تیز کر دیا ہے۔

دوسری جانب محکمہ انہار کے مطابق ہیڈ سدھنائی پر دریائے راوی میں پانی کی آمد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پانی کی آمد 53 ہزار 530 کیوسک جبکہ اخراج 38 ہزار 230 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے مل فتیانہ، کوٹ پٹھانہ، اڈا کلیرا، موضع تارا، حویلی مائی صفوراں، کوٹ کرم شاہ اور ڈیڈھی میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں۔ سیلابی پانی کے باعث مل فتیانہ، خان دا چک، جھلار سگلہ، شہابل شاہ، بستی پیپل والا اور موضع درسانہ میں فصلیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔

محکمہ انہار کے ایس ڈی او نے دریائی بیلٹ میں رہنے والے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے، جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button