مودی جی تو گیئو۔۔!بڑے خطرے نے بھارتی وزیر اعظم کو ڈرا کر رکھ دیا،بھارتی اب کیا خریدیں گے؟

مودی نے عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کے خطرے کو بھانپ لیا

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کے خطرے کو بھانپ لیا۔مودی نے بھارتیوں سے غیرملکی مصنوعات ترک کرکے مقامی مصنوعات استعمال کرنے کی اپیل کردی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں بھارتی شہریوں پر زور دیا ہے کہ مقامی اشیا کو اپنائیں تاکہ ملک میں خود انحصاری کی مہم کو فروغ دیا جا سکے۔

مودی بھارتی کی سفارتی تنہائی کو بھانپ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد مودی بارہا ’سودیشی‘ یعنی بھارت میں تیار کردہ مصنوعات کے استعمال پر زور دے چکے ہیں۔ 

مودی کے حامیوں نے امریکی برانڈز کے بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی ہے جن میں میک ڈونلڈز،پیپسی اور ایپل شامل ہیں جو بھارت میں بے حد مقبول ہیں۔

میکڈونلڈز،پیپسی اورایپل کی بائیکاٹ مہم شروع

مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم روزمرہ استعمال کی بہت سی ایسی چیزیں استعمال کرتے ہیں جو غیر ملکی ہیں، ہمیں اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا‘۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں وہی اشیا خریدنی چاہئیں جو بھارت میں تیار کی جاتی ہیں‘۔ تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔

مودی نے تمام ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ مقامی پیداوار اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں تاکہ بھارت کی خود کفالت اور اقتصادی ترقی میں تیزی آئے۔

مودی نے دکانداروں کو بھی کہا کہ وہ صرف بھارت میں تیار ہونے والی مصنوعات کی فروخت پر توجہ دیں تاکہ ملکی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔

کئی کمپنیوں نے مقامی مصنوعات کی تشہیر میں اضافہ کر دیا

خیال رہے کہ ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی کے حامل بھارت کو امریکی مصنوعات کے لیے ایک بڑی منڈی سمجھا جاتا ہے، جو زیادہ تر آن لائن ریٹیلر ایمیزون کے ذریعے فروخت کی جاتی ہیں اور گزشتہ برسوں میں امریکی برانڈز کی رسائی بھارت کے چھوٹے شہروں تک بھی پھیل چکی ہے۔

بھارتی وزیر اعظم بیک فُٹ پر چلے گئے

بھارتی وزیر اعظم نے خطاب میں مزید کہانئی اصلاحات کے تحت اب زیادہ تر روزمرہ کی ضروریات پرصرف5فیصداور 18فیصد کے دو ٹیکس سلیب ہوں گے۔ اس سے کھانے پینے، دواسازی، روزمرہ کی اشیا اور دیگر خدمات پر خرچ کم ہوگا، جبکہ کاروباری اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button