چائے پینے والوں کے لیے اہم خبر

لاہور (ویب ڈیسک) چائے کے شوقین افراد کے لیے ایک نئی تحقیق میں اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق باقاعدگی سے چائے پینے والوں میں شریانوں اور قلبی و دماغی خون کی نالیوں سے متعلق بیماریوں کا خطرہ چائے نہ پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد کم دیکھا گیا۔ تاہم تحقیق میں چائے کے درجہ حرارت اور طرزِ زندگی کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

امریکی طبی جریدے میں رپورٹ ہونے والی تحقیق میں چین کے بائیوبینک ڈیٹا سے تعلق رکھنے والے 4 لاکھ 85 ہزار 934 افراد کو شامل کیا گیا۔ محققین نے ان افراد کا اوسطاً 9.05 سال تک جائزہ لیا، جس کے دوران شریانوں اور قلبی و دماغی خون کی نالیوں سے متعلق بیماریوں کے 14 ہزار 863 نئے کیسز سامنے آئے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق باقاعدگی سے چائے پینے والوں میں مجموعی طور پر ان بیماریوں کا خطرہ 11.2 فیصد کم پایا گیا۔

روزانہ 6 سے 8 کپ چائے پینے والوں میں کیا سامنے آیا؟

تحقیق میں ہفتہ وار بنیاد پر چائے پینے والوں میں روزانہ تقریباً 6 سے 8 کپ چائے استعمال کرنے والے گروپ میں بیماریوں کا خطرہ نسبتاً کم دیکھا گیا۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ اس نتیجے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کے لیے اتنی مقدار میں چائے پینا ضروری یا فائدہ مند ہے۔

تحقیق میں چائے کی اقسام کا جائزہ لینے پر یہ بھی سامنے آیا کہ کالی چائے کا بیماریوں کے کم خطرے سے تعلق سبز چائے کی نسبت زیادہ مستقل تھا۔ اس کے علاوہ معتدل گاڑھی چائے پینے کے ساتھ بھی نسبتاً کم خطرہ دیکھا گیا۔

بہت زیادہ گرم چائے پینے سے خطرہ بڑھنے کا امکان

تحقیق کا ایک اہم پہلو چائے کا درجہ حرارت بھی تھا۔ نتائج کے مطابق بہت زیادہ گرم چائے پینے والوں میں بیماریوں کا خطرہ کم ہونے کے بجائے بعض حالات میں 16 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا۔

اس کے برعکس معتدل درجہ حرارت پر چائے پینے کو نسبتاً بہتر نتائج سے منسلک کیا گیا۔ محققین کے مطابق چائے کی مقدار اور قسم کے ساتھ اس کا درجہ حرارت بھی صحت پر اثرانداز ہونے والے عوامل میں شامل ہے۔

تمباکو نوشی سے پرہیز اور جسمانی سرگرمی بھی اہم

تحقیق میں طرزِ زندگی کے دیگر عوامل کی اہمیت بھی سامنے آئی۔ باقاعدگی سے چائے پینے، تمباکو نوشی سے گریز اور زیادہ جسمانی سرگرمی رکھنے والے افراد کے گروپ میں بیماریوں کا خطرہ تقابلی گروپ کے مقابلے میں تقریباً 45 فیصد کم دیکھا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ شریانوں اور خون کی نالیوں کی صحت کو سمجھنے کے لیے صرف چائے پینے کی عادت کو الگ سے دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کی مقدار، قسم، درجہ حرارت اور روزمرہ طرزِ زندگی کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں، یہ ثابت نہیں کرتے کہ چائے پینے سے لازماً بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اس لیے چائے کی مقدار میں غیر ضروری اضافہ کرنے کے بجائے متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور تمباکو نوشی سے پرہیز پر توجہ دینا اہم ہے۔

مزید خبریں

Back to top button