مریضوں کیلئے بڑی خوشخبری! جناح اسپتال میں روبوٹک سرجری مزید بڑھانے کا فیصلہ

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں روبوٹک سرجری نے اہم سنگِ میل عبور کرلیا، اسپتال میں اب تک 1500 سے زائد روبوٹک آپریشنز مکمل کیے جاچکے ہیں، جبکہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر روبوٹک سرجری کے نظام کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جے پی ایم سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر صدام صالح کے مطابق اسپتال میں روبوٹک سرجری کا آغاز اکتوبر 2023 میں ہوا تھا اور اس کے بعد سے اب تک 1500 سے زائد کامیاب روبوٹک آپریشن کیے جاچکے ہیں۔ ان آپریشنز کی مجموعی تخمینی مالیت 60 کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔
ڈاکٹر صدام صالح کے مطابق اس وقت روزانہ تقریباً 8 سے 10 روبوٹک سرجریز کی جارہی ہیں، جبکہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو رواں سال کے اختتام تک یہ تعداد 1800 سے 2000 تک پہنچنے کا امکان ہے۔
مریضوں کیلئے بڑی سہولت، اضافی فیس بھی نہیں
ڈاکٹر صدام صالح کا کہنا ہے کہ روبوٹک سرجری کے لیے مریضوں سے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جاتی بلکہ سندھ حکومت کے بجٹ کے تحت یہ سہولت مکمل طور پر مفت فراہم کی جارہی ہے۔
مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث روبوٹک آپریشنز کے لیے طویل انتظار اور تاریخوں کے مسئلے کا سامنا بھی ہے، جس کے پیش نظر جے پی ایم سی میں روبوٹک سرجری کی سہولت مزید بڑھانے پر کام جاری ہے۔
پیچیدہ آپریشنز میں روبوٹک سرجری کا اہم کردار
جے پی ایم سی کے شعبہ یورولوجی کے سربراہ ڈاکٹر نریش کمار کے مطابق روبوٹک سرجری نے پیچیدہ یورولوجیکل آپریشنز کو کم چیروں اور زیادہ درستگی کے ساتھ انجام دینا ممکن بنا دیا ہے۔
ان کے مطابق روایتی کھلی سرجری میں بعض آپریشنز کے لیے 15 سے 20 سینٹی میٹر تک چیرا لگانا پڑتا تھا، جبکہ روبوٹک طریقۂ علاج میں عموماً صرف تین چھوٹے سوراخوں کے ذریعے آپریشن مکمل کیا جاتا ہے۔
روبوٹک سرجری کے نتیجے میں خون کا ضیاع اور تکلیف نسبتاً کم جبکہ صحت یابی کا عمل تیز ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ پیچیدہ آپریشنز کے دوران سرجن کو تین جہتی اور انتہائی واضح منظر بھی دستیاب ہوتا ہے، جس سے جراحی کی درستگی میں مدد ملتی ہے۔
یورولوجی سے گائنی تک، کئی شعبوں میں روبوٹک آپریشنز
ڈاکٹر نریش کمار کے مطابق جناح اسپتال میں روبوٹک سرجری کے ذریعے مختلف شعبوں کے پیچیدہ کیسز کا علاج کیا جارہا ہے، جن میں یورولوجی، جنرل سرجری اور گائناکالوجی شامل ہیں۔
کیس کی نوعیت اور پیچیدگی کے مطابق روزانہ آپریشنز کی تعداد مختلف ہوسکتی ہے، جبکہ مجموعی طور پر ماہانہ تقریباً 50 یا اس سے زائد روبوٹک آپریشن بھی کیے جاتے ہیں۔
ملک بھر سے مریض کراچی پہنچنے لگے
ڈاکٹر صدام صالح کے مطابق سندھ کے علاوہ بلوچستان، جنوبی پنجاب، خیبرپختونخوا اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی مریض روبوٹک اور پیچیدہ سرجری کے لیے جے پی ایم سی کا رخ کررہے ہیں، جس کے باعث اسپتال پر مریضوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے نتیجے میں بعض کیسز میں آپریشن کے لیے طویل تاریخیں دینا پڑتی ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مستقبل میں روبوٹک نظام اور دیگر طبی سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ روزانہ ہونے والے آپریشنز کی تعداد بڑھائی جاسکے اور مریضوں کو طویل انتظار سے نجات دلائی جاسکے۔
جے پی ایم سی روبوٹک سرجری کا تربیتی مرکز بھی بن گیا
ڈاکٹر صدام صالح کے مطابق ماہرین کی تربیت مکمل ہونے اور تجربے میں اضافے کے ساتھ روبوٹک آپریشنز کا دورانیہ بھی کم ہورہا ہے، جس سے روزانہ سرجریز کی تعداد بڑھانے میں مدد ملی ہے۔
جے پی ایم سی کو روبوٹک سرجری کے تربیتی مرکز کا درجہ بھی حاصل ہوچکا ہے، جہاں حیدرآباد، لاڑکانہ، لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے سرجنز کو تربیت دی جاچکی ہے۔
ان کے مطابق کینیا کے آغا خان اسپتال سے آنے والے سرجنز اور تکنیکی عملے نے بھی جے پی ایم سی میں روبوٹک سرجری کی تربیت حاصل کی ہے۔
مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر روبوٹک سرجری کے مزید نظام نصب کرنے اور طبی سہولیات میں توسیع کی کوششیں جاری ہیں، جس سے مستقبل میں زیادہ مریض جدید اور پیچیدہ جراحی کی یہ سہولت حاصل کرسکیں گے۔



