سندھ میں18گھنٹے لوڈشیڈنگ!شرجیل میمن نے بجلی بحران کو گورننس کی بدترین ناکامی قراردیدیا

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے صوبے میں جاری طویل لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان میں گورننس کی ناکامی کی اعلیٰ ترین مثال قرار دے دیا۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے رکن سجاد سومرو کی جانب سے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا، جس میں کراچی کے علاقے لیاری میں کے الیکٹرک کی جانب سے طویل لوڈشیڈنگ کا معاملہ اٹھایا گیا۔

اس موقع پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں بلکہ سندھ کے تمام اضلاع اس سے متاثر ہو رہے ہیں، لہٰذا معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا جانا چاہیے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ انتہائی سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور وزارتِ پاور کی نااہلی و بدانتظامی کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک عوام کو بنیادی سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ شدید گرمی میں شہریوں کو 18،18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسئلے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے اور تمام متعلقہ بجلی کمپنیوں کے سربراہان کو پارلیمانی کمیٹی کے سامنے طلب کرکے جواب طلب کیا جائے۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ پانی، گیس اور موٹرویز سمیت دیگر معاملات میں بھی سندھ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے باوجود کراچی میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ برقرار ہے اور یہ معاملہ متعدد مرتبہ سندھ اسمبلی میں اٹھایا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو عوام کو مطلوبہ سروس فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔

شرجیل میمن نے سوال اٹھایا کہ اگر بجلی فراہم کرنے والے ادارے منافع بھی کما رہے ہیں تو حکومت اس بحران کے مستقل حل کے لیے مؤثر میکنزم کیوں نہیں بناتی؟ ان کے مطابق صرف میکنزم بنانے یا بجلی کے بلوں کی وصولی کی بات کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ نچلی سطح تک مؤثر نظام قائم کرنا ہوگا۔

اس موقع پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے ہدایت کی کہ 23 ستمبر کو تمام متعلقہ پاور کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کو کمیٹی اجلاس میں طلب کیا جائے تاکہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کی فراہمی سے متعلق معاملات پر ان سے جواب طلب کیا جاسکے۔

مزید خبریں

Back to top button