سپریم کورٹ میں عمران خان کی ضمانت کی 8 اپیلیں سماعت کیلئے مقرر
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کل بروز جمعرات صبح ساڑھے 9 بجے ان اپیلوں پر سماعت کرے گا

اسلام آباد (ویب ڈیسک): سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی بعد از گرفتاری ضمانت کی آٹھ اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کل بروز جمعرات صبح ساڑھے 9 بجے ان اپیلوں پر سماعت کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق، اس بینچ میں جسٹس محمد شفیع صدیقی بھی شامل ہوں گے۔ عمران خان کی جانب سے سینئر وکیل ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے ضمانت کی اپیلیں دائر کی تھیں، جو کہ 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات سے متعلق مختلف مقدمات میں دائر کی گئی ہیں۔ ان اپیلوں میں لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ملک گیر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران لاہور، راولپنڈی، کراچی، پشاور اور دیگر شہروں میں سرکاری، فوجی اور نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس) کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے گیٹ پر بھی مظاہرین نے دھاوا بولا۔ ان پرتشدد مظاہروں کے دوران کم از کم 8 افراد جاں بحق اور 290 سے زائد زخمی ہوئے، جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 1900 سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔
پرتشدد واقعات میں عمران خان، پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مختلف نوعیت کے سنگین مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں دہشتگردی، جلاؤ گھیراؤ اور عوامی و ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ان اپیلوں کی سماعت سیاسی اور قانونی حلقوں میں اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہے، جس کے فیصلے کا براہ راست اثر عمران خان کی آئندہ سیاسی حکمت عملی اور قانونی حیثیت پر پڑنے کا امکان ہے۔



