سابق امریکی صدرٹرمپ پر فرد جرم عائدسابق امریکی

سابق امریکی صدر پر الزام کیا ہے؟پورن اسٹار سٹورمی ڈینیئلز کا اصل نام سٹیفنی کلفرڈ ہے جو 1979 میں لوزیانا میں پیدا ہوئیں۔ بطورپرفارمر آنے والی ڈینیلئلز نے 2004 میں ہدایت کاری اور لکھنے کا آغازکیا۔ فرضی نام میوزک بینڈ موٹلے کرو کے بیسسٹ نکی سکس کی بیٹی سٹورم اور جنوبی امریکا میں مقبول شراب جیک ڈینیئلز سے لیا گیا ہے۔ان ٹچ ویکلی کو 2011 کے انٹرویو میں جو مکمل طورپرجنوری 2018 میں نشرکیا گیاڈینیئلز نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی پہلی ملاقات جولائی 2006 میں کیلی فورنیا اور نیواڈا کے درمیان لیک ٹابا کے قریب فلاحی مقصد کیلئے منعقدہ گالف ٹورنامنٹ میں ہوئی۔ڈینیئلز کا دعویٰ ہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں رات کے کھانے پربلایا، پھر وہ ہوٹل میں ان کے کمرے میں گئیں اور دونوں کے درمیان جسمانی تعلق قائم ہوا۔سال 2018 میں ایک ٹی وی انٹرویو میں ڈینیئلز نے بتایا کہ انہیں اس افیئر کے بارے میں بات نہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی ، لیکن اس معاملے میں اہم موڑ اس وقت آیا جب اسٹورمی ڈینیئلز کے نام سے مشہور پورن اسٹار نےجنوری 2018 میں امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کی ایک تحریر میں دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سن 2016 کے انتخاب سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے جنسی تعلقات کو ظاہر نہ کرنے کے لیے مبینہ طور پر رقم ادا کی گئی تھی جس کے بعدڈینیئلز نے لاس اینجلس میں یہ مقدمہ دائر کردیا اور کہا ہے کہ چونکہ ان دونوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ کارگر نہیں ہے اس لیے وہ ٹرمپ کے ساتھ تعلق کو ظاہر کر سکتی ہیں۔پورن اسٹار سٹورمی ڈینیئلز نے ایک موقع پہ بتایا کہ لاس ویگاس کی ایک کارپارکنگ میں کچھ لوگوں کی طرف سے میرا پیچھا کیا گیا اور ایک شخص نے ان کے پاس آکرٹرمپ کا پیچھا چھوڑنےکا کہا۔ٹرمپ کے اس وقت کے وکیل مائیکل کوہن نے ڈینیئلز کو اکتوبر 2016 میں صدارتی انتخاب سے ایک ماہ قبل ایک لاکھ 30 ہزار ڈالرکی رقم دی تھی دھیان رہے کہ یہ رقم ڈینیئلز کے ساتھ معاہدے کا حصہ تھی جس کے تحت ان پراس معاملے سے متعلق بات کرنے کی پابندی تھی۔یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن ٹرمپ کے گرد گھیرا اس وقت تنگ ہوا جب انہوں نے اپنے سابق وکیل مائیکل کوہن کو رقم دی تو ریکارڈ میں اسے وکیل کی فیس لکھوایا۔ ٹرمپ کے سابق وکیل مائیکل کوہن کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ ادائیگی سابق صدر کی ہدایت پر کی جس کا مقصد ٹرمپ اور ڈینیئلز کے افیئر کو دبانا تھا۔ ڈینیئلز کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ٹرمپ کے ساتھ متعدد بار سیکس کیا تاہم ٹرمپ اس کی تردید کرتے ہیں۔ نیویارک میں موجود وکلا کا مؤقف ہے کہ یہ ٹرمپ کی جانب سے بزنس ریکارڈ میں غلط بیانی کرنے کے مترادف ہے جو ریاست میں ایک جرم ہےاس پہ ان کے خلاف مقدمہ عدالت میں چلا جس میں جان اس وقت پڑی جب سابق امریکی صدر ٹرمپ سابق وکیل کوہن نے 2018 میں وفاقی عدالت کے سامنے اعتراف جرم کرلیا تھا جس پر انہیں اسٹارمی ڈینیئلز اور ایک ماڈل کیرین مک ڈوگال کو رقوم کی ادائیگی سے متعلق کردار پر 3 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی ، ان کے خلاف تحقیقات تو شروع کی گئی تھیں مگر ٹرمپ کو الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔جنوری 2018ء میںوال اسٹریٹ جرنل نے ڈینیئلز کو کوہن کی ادائیگی کی اطلاع دی۔سابق امریکی صدر ٹرمپ کے سابق وکیل کوہن نے اگست میں ادائیگی کے ساتھ ساتھ میک ڈوگل کو کی گئی ادائیگی سے متعلق آٹھ مجرمانہ سرگرمیاں قبول کیں۔ اپنے جرم کے اعتراف میں، کوہن نے ٹرمپ کو ملوث کرتے ہوئے کہا کہ اس نے وفاقی عہدے کے امیدوار کی ہدایت پرکام کیا،لیکن اس کے بعد اس سیکنڈل نے ایک بڑا موڑ لیا جب عدالت نے ٹرمپ پر فحش فلموں کی اداکارہ سٹورمی ڈینیئلز کو خاموشی سے رقم کی ادائیگی کے اسکینڈل میں مبینہ کردار پرٹرمپ کے خلاف تحقیقات شروع کیں، کیس سخت ہونے لگا اور ان کو عدالتی کاروائی کا سامنا کرنا پڑاس حوالے سے ا ین ہٹن کی گرینڈ جیوری نے 30 مارچ کو ٹرمپ پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے ووٹ دیا ،مزید انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے نیویارک میں اپنے بزنس ریکارڈ سے متعلق 34 جھوٹے بیانات دیئے اور دوسروں سے بھی جھوٹ بلوایا،یاد رہے اس سکینڈل کا اعتراف اداکارہ سٹورمی ڈینیئلزاور ٹرمپ کے سابق وکیل مائیکل کوہن پہلے ہی کرچکے ہیں۔ 3 اپریل کو ٹرمپ اپنے پرائیویٹ طیارے میں پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لاگارڈیا ہوائی اڈے کے لیے اڑان بھری، اور اپنے موٹر کیڈ کو ٹرمپ ٹاور لے گئے، جہاں انہوں نے رات گزاری۔ پولیس نے گرفتاری سے قبل مین ہٹن اور اس کے ارد گرد سیکورٹی بڑھا دی تھی ، ڈونلڈ ٹرمپ پیشی کے لیے نیویارک کے علاقے مین ہیٹن کی عدالت پہنچے جہاں انہوں نے اپنے آپ کو مین ہیٹن کے ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس حکام کے حوالے کیا جس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے ، وہ زیر حراست ہیں اور اپنی آئندہ پیشی سے قبل پولیس کی تحویل میں رہیں گے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کی آئندہ صدارتی دوڑ میںبھی شامل ہیں تاہم اس فیصلے کے بعد صدارتی انتخابات کا منظرنامہ تبدیل ہونے کا امکان ہے۔دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ نے کارروائی سیاسی دشمنی اور انتخابی عمل میں مداخلت قرار دی ہے۔امریکی تاریخ میںیہ پہلا موقع ہے کہ کسی موجودہ یا سابق صدر کو کرمنل چارجز کا سامنا کرنا پڑےرہا ہے۔لیکن اس سب میں ایک اہم سوال یہ جنم لے رہاہےکہ کیا سابق صدر 2024کےانتخاب لڑ سکتے ہیں۔جی ہاں بالکل، سزا یا فرد جرم ٹرمپ کو صدارتی انتخاب لڑنے سے نہیں روکے گی۔ امریکی آئین کے مطابق کوئی مجرمانہ ریکارڈ صدر بننے کی اہلیت کے لیے مقرر کردہ معیارات میں شامل نہیں ہے،تاہم صدر ٹرمپ کی گرفتاری ان کی صدارتی مہم کو نقصان ضرور پہنچائے گی، عدالت نے ایک گھنٹہ تک جاری کارروائی کے بعد سابق صدر کیخلاف اگلی سماعت کی تاریخ 4دسمبر مقرر کردی.



