ذیشان خودسوزی کیس میں بڑا ایکشن،سینیٹ کمیٹی کا ورثا کو تمام واجبات ادا کرنے کا حکم

اسلام آباد(جانو ڈاٹ پی کے) سینیٹری ورکر ذیشان کی خودسوزی کے معاملے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذیشان کے ورثا کو تمام واجبات آئندہ اجلاس سے قبل ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے اجلاس میں ستھرا پنجاب کے سینیٹری ورکر ذیشان کی خودسوزی کے معاملے پر حکام اور ورثا کو طلب کیا گیا، جہاں دونوں فریقین کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آگیا۔
ستھرا پنجاب حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ذیشان کبھی کمپنی کا ملازم ہی نہیں رہا، جس پر کمیٹی کی چیئرپرسن ثمینہ ممتاز زہری شدید برہم ہوگئیں۔
چیئرپرسن نے حکام سے سخت سوال کیا کہ اگر ذیشان کمپنی کا ملازم نہیں تھا تو پھر اس کے نام پر ٹرمینیشن لیٹر کیوں جاری کیا گیا؟ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ دو اجلاسوں میں حکام خود کمیٹی کو بتا چکے ہیں کہ ذیشان کو ملازمت سے نکالا گیا، اسے تنخواہ بھی دی گئی اور ٹرمینیشن لیٹر بھی کمیٹی میں جمع کرایا گیا تھا۔
⚠️ 40 ہزار تنخواہ طے، 19 ہزار ملتے رہے؟
ذیشان کے بھائی نے کمیٹی کو بتایا کہ ذیشان کی ماہانہ تنخواہ 40 ہزار روپے طے کی گئی تھی، تاہم ابتدا ہی سے اسے صرف 19 ہزار روپے ادا کیے جارہے تھے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تنخواہ سے متعلق شکایت کرنے پر ذیشان کا مبینہ طور پر تبادلہ کردیا گیا، جبکہ اس کے واجبات بھی مکمل ادا نہیں کیے گئے۔
ذیشان کے بھائی کے مطابق 8 جون کو ذیشان نے ویڈیو بنا کر تنخواہ نہ ملنے پر خودسوزی کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد اس نے خودسوزی کرلی۔
🔥 ’’اگر تنخواہ نہ ملنے پر کوئی خودسوزی کرلے تو ذمہ دار کون؟‘‘
اجلاس میں ڈی جی ستھرا پنجاب اور گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سی ای او بھی کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکے۔
چیئرپرسن ثمینہ ممتاز زہری نے حکام سے سخت سوال کیا کہ اگر ایک شخص تنخواہ نہ ملنے پر خودسوزی کرلے تو آخر اس کی ذمہ داری کون لے گا؟
کمیٹی نے حکام کے متضاد مؤقف پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذیشان کے ورثا کے تمام واجبات اگلے اجلاس سے قبل ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
معاملے میں ملازمت، تنخواہ، ٹرمینیشن اور واجبات سے متعلق متضاد بیانات نے کیس کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جبکہ کمیٹی نے حکام سے آئندہ اجلاس میں واضح جواب اور ذمہ داری کے تعین کی توقع ظاہر کی ہے۔



