سیف ہاؤس ملازمہ کی برطرفی پر احتجاج، زرینہ قمبرانی کی بحالی اور تحقیقات کا مطالبہ

میرپورخاص(شاہد میمن\جانوڈاٹ پی کے) عمرکوٹ کے سیف ہاؤس کی سابق ملازمہ زرینہ قمبرانی کی مبینہ برطرفی اور ہراسانی کے الزامات کے خلاف سندھ مزدور اتحاد، خواتین کارکنوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور مختلف تنظیموں کے کارکنوں نے میرپورخاص پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ، کمشنر میرپورخاص، ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد راجپوت کے خلاف لگائے گئے الزامات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور زرینہ قمبرانی کو فوری طور پر ملازمت پر بحال کیا جائے۔

احتجاج کے دوران زرینہ قمبرانی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ چار سال سے سیف ہاؤس میں خدمات انجام دے رہی تھیں اور ہمیشہ ذمہ داری کے ساتھ فرائض سرانجام دیے۔ ان کا الزام تھا کہ نومبر 2025 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی کے بعد انہیں مسلسل ہراساں کیا گیا۔

زرینہ قمبرانی کے مطابق انہوں نے صرف یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے قائم ادارے میں غیر متعلقہ مردوں کی آمدورفت نہیں ہونی چاہیے، جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے انہیں وارننگ لیٹر جاری کیا گیا اور بعد ازاں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔

متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ ایک بیوہ ہیں اور ان کے کم عمر بچے ہیں، اس لیے انہیں انصاف فراہم کرتے ہوئے دوبارہ ملازمت پر بحال کیا جائے۔

مظاہرے سے خطاب کرنے والے مقررین نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنا اور ان کے روزگار کو خطرے میں ڈالنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر شکایات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

احتجاج کے شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر زرینہ قمبرانی کو بحال نہ کیا گیا اور ان کے تحفظات کا ازالہ نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ سندھ بھر تک وسیع کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button