وزیرآباد:18سالہ مقتول رکشہ ڈرائیور کی قبر کشائی،ہرآنکھ اشکبار

وزیرآباد(نامہ نگار)علی پور چٹھہ میں اغواء کے بعد قتل ہونے والے 18سالہ رکشہ ڈرائیور عبداللہ الرحمن کی قبر کشائی کر دی گئی۔12 روز بعد مقتول کی میت لواحقین کے حوالے کی گئی،جسے علی پور چٹھہ کے مرکزی قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔غم سے نڈھال ماں اور بہنوں کے بین سن کر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی.

علی پور چٹھہ کے کالج روڈ کے رہائشی عنصر اقبال کا 18 سالہ بیٹا عبداللہ الرحمن 22 اکتوبر کو مدینہ چوک سے رکشہ سمیت اغواء ہو گیا تھا۔ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ حافظ آباد کے رہائشی امانت علی نے رکشہ چھیننے کی نیت سے عبداللہ کو بے دردی سے قتل کر کے لاش نہر میں پھینک دی۔ملزم رکشہ فروخت کرنے کے لیے شوروم پر لایا جہاں شک گزرنے پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔

دورانِ تفتیش امانت علی نے قتل کا اعتراف کر لیا۔مقتول کی لاش تھانہ صدر پنڈی بھٹیاں کی چوکی کوٹ نکا کی حدود میں ملی تھی جسے ابتدائی طور پر لاوارث سمجھ کر دفن کر دیا گیا تھا۔

مجسٹریٹ حافظ آباد کی نگرانی میں قبر کشائی عمل میں لائی گئی، ڈی این اے میچ ہونے کے بعد میت ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔مقتول کے والد عنصر اقبال کا کہنا ہے کہ میرے 18سالہ لختِ جگر کو ظالموں نے بے دردی سے قتل کر دیا،میں اپنے بیٹے کے قاتل کو سرِعام پھانسی دلوانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

مزید خبریں

Back to top button