عالمی یومِ ہیپاٹائٹس: 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے قومی عزم کا اعادہ، صدر اور وزیراعظم کے خصوصی پیغامات

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں 2030 تک پاکستان سے ہیپاٹائٹس سی کو عوامی صحت کے لیے خطرہ بننے سے ختم کرنے کے قومی عزم کا اعادہ کیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہیپاٹائٹس ایک قابلِ علاج اور قابلِ روک تھام بیماری ہے، تاہم اس کے لیے بروقت تشخیص اور مؤثر علاج انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ہیپاٹائٹس سی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس بیماری کے خاتمے کے لیے اجتماعی عزم اور مسلسل عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

صدر مملکت نے زور دیا کہ غیر محفوظ طبی اور تجارتی طریقوں کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اس پر سختی سے عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ عوامی آگاہی اور احتیاطی تدابیر ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے قومی پروگرام کے تحت ہیپاٹائٹس سی کی مفت سکریننگ، تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور محدود وسائل کے باوجود حکومت اس قومی مشن کو کامیاب بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے عزم کی تجدید کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کئی دہائیوں سے ہیپاٹائٹس سی جیسے سنگین عوامی صحت کے چیلنج سے نبرد آزما ہے، اس لیے معیاری سکریننگ، بروقت تشخیص اور علاج تک ہر شہری کی مساوی رسائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے 2025 میں وزیراعظم قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی کا آغاز کیا، جس کے تحت لاکھوں پاکستانیوں کو مفت سکریننگ، تصدیقی ٹیسٹ اور مؤثر علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے غیر معیاری سرنجوں کی تیاری، تقسیم اور دوبارہ استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے، جبکہ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بروقت ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کرائیں، اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کو بھی ٹیسٹ کرانے کی ترغیب دیں اور محفوظ طبی و حفظانِ صحت کے اصول اپنائیں، کیونکہ جلد تشخیص اور فوری علاج سے قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے ڈاکٹروں، نرسوں، لیبارٹری ماہرین اور فرنٹ لائن طبی عملے کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد، سائنسی ترقی، عوامی تعاون اور مسلسل کوششوں سے پاکستان 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا قومی اور عالمی ہدف حاصل کر سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button