بدین میں پانی کی مصنوعی قلت کے خلاف کسانوں کا احتجاج، چاول کی فصل شدید خطرے میں

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن / جانو ڈاٹ پی کے)کسان بورڈ ضلع بدین کی جانب سے مصنوعی پانی کی قلت کے خلاف آبادگاروں نے احتجاج کیا تفصیلات کے مطابق بدین میں مصنوعی پانی کی قلت کے باعث چاول کی فصل شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ ہزاروں ایکڑ زرعی زمین پانی کی منتظر ہے۔ آبادگاروں نے زمینیں تیار کرکے چاول کی کاشت کے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں، لیکن نہروں میں پانی نہ ہونے کے باعث کسان شدید پریشانی کا شکار ہیں ان خیالات کا اظہار کسان بورڈ سندھ کے جنرل سیکریٹری انجینئر سید علی مردان شاہ گیلانی، کسان بورڈ ضلع بدین کے صدر اللہ بچایو ہالیپوٹا اور جماعت اسلامی ضلع بدین کے جنرل سیکریٹری عبدالکریم بلیڈی نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ چاول کی کاشت کا موزوں وقت تیزی سے گزر رہا ہے، لیکن متعلقہ ادارے مصنوعی پانی کی قلت ختم کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد آبادگاروں نے نرسریاں تیار کر رکھی ہیں جو پانی کی کمی کے باعث سوکھ رہی ہیں، جبکہ مہنگے داموں خریدے گئے بیج بھی ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں کسانوں کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی کھاد، بیج، زرعی ادویات اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پانی کی قلت نے ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر آئندہ چند دنوں میں پانی فراہم نہ کیا گیا تو چاول کی فصل کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف کسانوں بلکہ پورے علاقے کی معیشت پر مرتب ہوں گے کسانوں نے کہا کہ بدین کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے اور چاول یہاں کی اہم فصلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگر فصل بروقت کاشت نہ کی گئی تو ہزاروں کسان اور زرعی مزدور روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کاشت کا مناسب وقت گزر گیا تو اس سے ہونے والے نقصان کی ذمہ داری کون قبول کرے گا دوسری جانب پانی کی قلت کے اثرات صرف زراعت تک محدود نہیں رہے بلکہ جنگلی حیات بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کسانوں کے مطابق تالابوں، نہروں اور دیگر آبی ذخائر میں پانی کم ہونے کے باعث پرندے اور جنگلی جانور پیاس اور خوراک کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد جانور اور پرندے ہلاک ہو رہے ہیں
متاثرہ آبادگاروں نے سندھ حکومت، محکمہ آبپاشی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بدین ضلع کی نہروں اور آبی گزرگاہوں میں فوری طور پر پانی چھوڑا جائے تاکہ چاول کی فصل کو تباہی سے بچایا جا سکے اور کسانوں کو مزید معاشی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو وہ مزید سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔
اس موقع پر ایاز لطیف سومرو، علی گل منصوری اور فتح خان کوسا نے بھی خطاب کیا۔



