امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت طے پا گئی، اتوار کو دستخط کا امکان

نیویارک(ویب ڈیسک)امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی مفاہمت طے پا گئی ہے اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو متوقع ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے جنیوا میں ہونے والے جی سیون اجلاس سے قبل یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ابتدائی اتفاق کے تحت 60 روزہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر بھی مبینہ طور پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مجوزہ مفاہمت میں پابندیوں میں نرمی ایران کے عملی اقدامات سے مشروط ہوگی، جبکہ جنگ بندی کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری رہیں گے۔ تمام محاذوں پر جنگ بندی کا اطلاق ہوگا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق معاہدے کے مسودے میں پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور خلیج عمان میں ناکہ بندی ختم کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے تیل پر عائد پابندیاں ختم کیے جانے اور امریکی افواج کے جزوی انخلا کی بات بھی زیر غور ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ معاہدے کی دستاویزات آخری مراحل میں ہیں اور جلد دستخط متوقع ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز ایک ہفتے کے اندر کھول دی جائے گی۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے ان دعوؤں کو محتاط انداز میں رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق سفارتی رابطے جاری ہیں لیکن ایران اپنی “ریڈ لائنز” پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
حکام کے مطابق متن کے بعض حصوں پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی فیصلہ دونوں ممالک کی مکمل رضامندی سے مشروط ہے۔



