چین میں بیروزگار نوجوان اپنے والدین کے فل ٹائم ملازمین بننے کو ترجیح دینے لگے

بیجنگ(جانوڈاٹ پی کے)تصور کریں کہ آپ کو ملازمت نہیں مل رہی تو والدین ہی آپ کو اجرت پر ‘کل وقتی بچوں یا فل ٹائم چلڈرن’ کے طور پر بھرتی کرلیں تو پھر؟

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ایک ملک میں واقعی یہ رجحان عام ہوتا جا رہا ہے۔

جی ہاں واقعی چین میں بھرپور کوششوں کے باوجود ملازمتوں حاصل کرنے میں ناکام نوجوان والدین کے ملازمین بننے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

چین میں فل ٹائم چلڈرن کی اصطلاح سے مراد والدین کا کل وقتی ملازم ہوتا ہے۔

ایسے نوجوانوں کو والدین کی جانب سے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے جو ایک سے 5 ہزار یوآن کے درمیان ہوتی ہے، جس کا انحصار والدین کی پنشن یا آمدنی پر ہوتا ہے۔

تنخواہ کے بدلے میں یہ نوجوان والدین کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور مشکل کام جیسے موبائل ایپس چلانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ایسے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والدین کی نگہداشت کرنے کے ساتھ انہیں جذباتی سپورٹ فراہم کرتے ہیں اور یہ کام کسی ملازمت سے مختلف نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ تنخواہوں کے حقدار ہیں۔

ایک خاتون شیاویا نے کہا کہ 15 ماہ تک والدین کی ملازمت کرنے کے بعد وہ کسی روایتی ملازمت کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اس سے قبل یہ خاتون ایک ملازمت کرچکی تھیں مگر ساتھیوں کے خراب رویے کی وجہ سے اسے چھوڑنا پڑا۔

اس ملازمت کے بعد سرکاری ملازمت کے امتحان کی تیاری کے لیے والدین کی ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا۔

والدین کی جانب سے خاتون کو ہر ماہ 3 ہزار یوآن دیے جاتے تھے۔

مگر ایک دن والدین نے کہا کہ اب بہت ہوگیا اور بازار میں خاتون کو باتیں سنائیں جس کے بعد انہوں نے نئی ملازمت تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ چین میں 16 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 14 سے 18 فیصد کے درمیان ہے۔

ایک اور خاتون ایلا نے بتایا کہ وہ اپنے والدین کی ملازمت کر رہی ہیں کیونکہ دادا کے انتقال کے بعد والد ڈپریشن کا شکار ہوگئے تھے۔

اس ملازمت کے دوران وہ والدین کو آن لائن خریداری میں مدد فراہم کرتی ہیں، ڈرائیونگ اور ان کے سفر کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button