امریکا کا ایران پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ، ٹرمپ نے طویل المدتی بحری ناکہ بندی کی تیاری کا حکم دے دیا

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو ایران کے خلاف طویل المدتی بحری ناکہ بندی کی ہدایت کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشیروں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف طویل المدتی بحری ناکہ بندی کی تیاری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ جاری رکھا جائے، ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی شپنگ کو روکا جائے، بمباری شروع کرنا یا تنازع سے باہر نکلنا ناکہ بندی برقرار رکھنے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ بادشاہ چالس متفق ہیں کہ ایران جوہری بم نہیں رکھ سکتا، امریکا نے ایران کو فوجی شکست دی ہے، برطانیہ سے تاریخی رشتہ اجاگر کرنا فطری ہے، سیاسی علیحدگی کے باوجود امریکا اور برطانیہ کی دوستی برقرار ہے۔

ترجمان امریکی سینٹ کام کے مطابق امریکی ناکہ بندی سے ایران کی سمندری تجارت متاثر ہوئی، امریکی افواج ایران آنے اور جانے والی تجارت کو روک رہی ہیں، چاہ بہار بندرگاہ پر جہازوں کی بڑی تعداد جمع ہے، چاہ بہار پر 5 جہاز ہوتے تھے، اب یہ تعداد بڑھ کر 20 سے زائد ہوگئی۔

دوسری جانب ایران نے یواین سیکرٹری جنرل کو خط میں امریکی ناکہ بندی کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی جہازوں کو روکنا اور اثاثے ضبط کرناسمندری قزاقی قرار دے دیا۔

ایرانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ امریکا تحویل میں لئے گیے جہاز چھوڑنے کا حکم دے، امریکی اقدام کی علاقائی اور عالمی سکیورٹی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، واشنگٹن کو ان اقدامات کے نتائج کی مکمل ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔

ایران نے امریکا کو اطلاع دی وہ مکمل تباہی کی حالت میں ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران نے خود کہا ہے کہ ان کا ملک اندر سے زوال پذیر ہے۔

امریکی صدر کے بقول ایران نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھول دے کیونکہ وہ قیادت کی صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے خیال میں ایران اس صورتحال سے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کسی بین الاقوامی ذریعے نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button