ایران جنگ کے اثرات، عالمی منڈی میں تیل 24 فیصد مہنگا ہونے کا خدشہ، ورلڈ بینک

نیویارک(ویب ڈیسک)ایران کے خلاف جاری جنگ کے اثرات کے باعث عالمی منڈیوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رواں سال 24 فیصد تک اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو 2022 میں روس-یوکرین جنگ کے بعد بلند ترین سطح ہو سکتی ہے۔

عالمی بینک کی تازہ کموڈیٹی مارکیٹس آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق 2026 میں مجموعی اشیائے صرف کی قیمتوں میں 16 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی اور کھاد کی بڑھتی قیمتیں اس اضافے کی بنیادی وجہ ہوں گی جبکہ کئی اہم دھاتیں بھی ریکارڈ سطح کی قیمتوں تک پہنچ سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 2026 میں 86 ڈالر فی بیرل تک جانے کا امکان ہے، جبکہ 2025 میں یہ 69 ڈالر فی بیرل تھی۔ یہ تخمینہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ شدید ترین رکاوٹیں مئی کے آغاز تک ختم ہو جائیں گی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل 2026 کے آخر تک بتدریج جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو جائے گی۔

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باعث عالمی تیل سپلائی کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریباً 35 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اور ان رکاوٹوں کے نتیجے میں ابتدائی طور پر عالمی یومیہ تیل سپلائی میں ایک کروڑ بیرل تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی مہنگائی میں مزید اضافہ اور توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button