اسرائیل لبنان جنگ بندی میں 3 ہفتے کی توسیع، ایران سے دیرپا معاہدہ چاہتے ہیں، ٹرمپ

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیز فائر میں 3 ہفتے کی توسیع کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ ہمیشہ قائم رہنے والا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں امن کیلئے مل کر کام کرنے کا بھی اعلان کر دیا، صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا لبنان اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر ہونا اچھی بات ہے، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر کی میزبانی کا خواہشمند ہوں۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا اسرائیل اور لبنان میں سیز فائر سب کیلئے اچھی بات ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا لبنان اور اسرائیل دونوں ہی دہشت گردی سے متاثر ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل پر حملہ ہوگا تو انہیں اپنا دفاع کرنا پڑے گا، ایران حزب اللہ کی مالی امداد بند کرے، لبنانی صدر3 ہفتوں میں نیتن یاہو سے ملاقات کر سکتے ہیں، جنگ کی صورتحال پر جوا لگے یہ پاگل پن مجھے پسند نہیں ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت ہم روس اور سعودی عرب سے زیادہ تیل پیدا کر رہے ہیں، وینزویلا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ، ہمیں تیل پیداوار کا مسئلہ نہیں، ایک جہاز کو قبضے میں لیا تھا، اس میں کیا تھا یہ سیکرٹ ہے، بحری جہاز سے بہت ساری چیزیں برآمد کی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ناکہ بندی بہترین جا رہی ہے، ہمارا ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے، ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں لگا رہا ہے تو یہ بھی بڑی غلطی ہے، سعودی عرب کی قیادت بھی سیز فائر سے بہت خوش ہوگی، سٹاک مارکیٹ جنگ کے باوجود ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ گئی ہے۔
بعدازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بہتر ڈیل کیلئے ایران کو ایک اور موقع دیا جا رہا ہے، اور ڈیل ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کاروبار نہیں کر پا رہا، نہیں جانتے کہ ایران میں لیڈر کون ہے، ہم بات چیت کر رہے ہیں لیکن وہ اندرونی انتشار کا شکار ہیں، ایران میں 75 فیصد تک اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ممکنہ طور پر کچھ حد تک اپنی عسکری صلاحیت بحال کی ہے تاہم امریکی فوج ایک دن میں اسے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسی کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایران کے معاملے میں ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کیلئے جلد بازی نہیں کریں گے، ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو دیرپا ہو، امریکیوں کو کچھ عرصے کیلئے گیس اور پیٹرول کی قیمتیں زیادہ ادا کرنے کی توقع رکھنی چاہئے۔



