ٹک ٹاک پر 60 فیصد مواد اے آئی سے تیار ہونے کا انکشاف، رپورٹ جاری

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)اگر آپ ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھنا پسند کرتے ہیں تو اس میں 60 فیصد مواد آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتا ہے۔
ایک امریکی کمپنی کیپ ونگ کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک صارفین جو ویڈیوز دیکھتے ہیں، ان میں لگ بھگ 60 فیصد اے آئی سے تیار کی جاتی ہیں۔
یہ شرح یوٹیوب صارفین کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ نتائج سے انکشاف ہوتا ہے کہ ٹک ٹاک کی الگورتھم فیڈ کم معیاری مواد کو زیادہ رسائی فراہم کرتی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ یہ معاملہ کم عمر صارفین میں زیادہ بدتر نظر آتا ہے۔
درحقیقت ٹک ٹاک میں کڈز کیٹیگری میں اے آئی مواد سب سے زیادہ نظر آتا ہے جبکہ کارٹون کڈز ہیش ٹیگ لگ بھگ مکمل طور پر اے آئی ویڈیوز پر مبنی ہوتا ہے۔
یعنی 100 میں سے محض 3 ویڈیوز انسانوں کی تیار کردہ ہوتی ہیں۔
جب بچے ٹک ٹاک کو تعلیمی یا انسانوں پر مبنی تفریحی مواد کے لیے استعمال کرتے ہیں، تو ان کی فیڈ میں اے آئی سے تیار کردہ مواد نظر آتا ہے۔
درحقیقت اگر کسی صارف کی جانب سے اے آئی پر مبنی ویڈیوز میں دلچسپی دکھائی جاتی ہے، تو ٹک ٹاک کی جانب سے ایسا مواد زیادہ دکھایا جانے لگتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ اے آئی مواد بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
خیال رہے کہ ٹک ٹاک کی جانب سے نومبر 2025 میں ایسے کنٹرولز متعارف کرائے گئے تھے جن کے ذریعے صارفین اپنی فیڈ پر اے آئی مواد کی تعداد زیادہ یا کم کرسکتے ہیں۔



