تھرپارکر میں تعلیمی بحران سنگین، سکول ویران، قبضے، ہزاروں بچے تعلیم سے محروم

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع بھر میں تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے، جہاں ہزاروں بچے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں، جبکہ متعدد طلبہ اسکولوں کی خراب صورتحال کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے تعلقہ ڈیپلو کے گاؤں ڈیڑو کے اسکول کا ذکر سامنے آیا ہے، جہاں ایک استاد کی مبینہ خودکشی کے بعد آج تک دوسرا استاد مقرر نہیں کیا جا سکا۔ تقریباً 400 گھروں پر مشتمل اس بستی کے سینکڑوں بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ اسکول کی عمارت بھی خستہ حالی کا شکار بنتی جا رہی ہے۔ اسی طرح مھتر مصری میگھواڑ ڈھانی کا اسکول بھی کئی مسائل کا شکار ہے، مگر متعلقہ حکام کی جانب سے ان مسائل کے حل کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔ٹ دوسری جانب کے ٹی میں واقع مالو میگھواڑ اسکول کا فرنیچر اور چھت کا لوہا چوری ہو چکا ہے، جبکہ اسکول کی باقی عمارت پر قبضہ کر کے اسے مویشیوں کے باڑے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔جبکہ تعلقہ ڈیپلو کے گاؤں ڈونڈڑی کے سکول پر وڈیروں کا قبضہ ہے اور سکول کا لوہا اور مٹیریل مبینہ چوری ہوچکا ہے، سوشل میڈیا پر خبر دینے پر گاؤں کے بچوں کو اسکول نہیں آنے دیا جا رہا ہے، ایسے بھی الزام سامنے آئے ہیں۔ ضلع میں اس نوعیت کے کئی اسکول موجود ہیں، جو کسی نہ کسی وجہ سے بند پڑے ہیں اور بچوں کی تعلیم کے لیے بے سود بن چکے ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق کئی سرکاری اسکول برسوں سے بند ہیں، جبکہ بعض اسکولوں کی عمارتوں اور سامان پر قبضے کیے جا چکے ہیں۔ متعدد اسکول مویشیوں کے واڑوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور کئی اسکولوں کی چھتوں سے لوہا اور دیگر سامان چوری کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اسکول بند ہونے کے باعث ننھے بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے دور دراز علاقوں تک پیدل جانے پر مجبور ہیں، جس سے خصوصاً بچیوں کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ تعلیم کی غفلت اور انتظامی نااہلی کے باعث “پڑھندی سندھ، بڑھندی سندھ” جیسے نعرے محض دعوؤں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا اور متعلقہ حکام کو بارہا شکایات کے باوجود کوئی مؤثر نوٹس نہیں لیا گیا۔ دوسری جانب والدین کا کہنا ہے کہ نجی اسکولوں میں بھاری فیسیں اور مبینہ سود خوری جیسے مسائل عام ہیں، جس کے باعث غریب خاندان اپنے بچوں کو تعلیم دلانے سے قاصر ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض سرکاری اسکولوں میں ایسے اساتذہ بھی تعینات ہیں، جن پر تدریسی ذمہ داریوں کے بجائے منشیات کے استعمال اور فروخت جیسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، جس سے والدین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں، سماجی رہنماؤں اور والدین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تھرپارکر میں بند اسکول فوری طور پر کھولے جائیں، تعلیم دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button