کلوئی تھانہ وڈیروں کی اوطاق بننے کے الزامات، دو ماہ گزرنے کے باوجود تشدد کا مقدمہ درج نہ ہو سکا

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر کی تحصیل کلوئی کے گاؤں کیٹی مالھو میگھواڑ میں دو ماہ قبل پیش آنے والے تشدد کے واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہ ہو سکا، جس کے باعث متاثرہ مزدور اور اس کے اہلِ خانہ شدید پریشانی اور مایوسی کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گاؤں کیٹی مالھو میگھواڑ کے رہائشی مزدور لیمون میگھواڑ کو مبینہ طور پر چند بااثر افراد نے تشدد کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ واقعے کے بعد زخمی کو طبی امداد فراہم کی گئی اور اس کا میڈیکل سرٹیفکیٹ سمیت دیگر ضروری شواہد بھی موجود ہیں، تاہم دو ماہ گزر جانے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا جا سکا۔ متاثرہ لیمون میگھواڑ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دو ماہ سے انصاف کے حصول کے لیے کلوئی تھانے کے چکر لگا رہا ہے، لیکن پولیس اس کی داد رسی کرنے کے بجائے مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ اس نے الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او کلوئی شواہد موجود ہونے کے باوجود ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی سے گریز کر رہا ہے۔ اس حوالے سے متاثرہ فریق سے تعلق رکھنے والے نہال میگھواڑ، دلیپ میگھواڑ اور دیگر افراد نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت مقدمہ درج کر لیا جاتا تو ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ممکن ہو سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف میں تاخیر کے باعث متاثرہ خاندان ذہنی اذیت سے گزر رہا ہے۔متاثرین نے ڈی آئی جی میرپورخاص اور ایس ایس پی تھرپارکر سے اپیل کی ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر کلوئی پولیس کو مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں، ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندان کو جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے۔ علاقے کے سماجی حلقوں نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور متاثرہ مزدور کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔



