تھر کول رائلٹی، تھر کی ترقی، خواتین کا تحفظ اور آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی)تھرپارکر کی خواتین رہنماؤں، سماجی کارکنوں، نوجوان لڑکیوں اور کوئلے سے متاثرہ کمیونٹیز کی خواتین نے مطالبہ کیا ہے کہ تھر سے حاصل ہونے والی کوئلے کی رائلٹی کو تھر کے عوام کا قانونی اور اخلاقی حق تسلیم کرتے ہوئے یہ رقم ضلع کی مجموعی ترقی، متاثرہ خاندانوں کی بحالی، خواتین و بچوں کی فلاح، بنیادی سہولیات، ماحولیاتی بحالی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے خرچ کی جائے۔

اسلام کوٹ میں پریس کانفرنس کے دوران تھر کول متاثرہ خواتین فہمیدہ، آسیت، بائی، امرو بائی، کملا بھیل اور دیگر نے کہا کہ کوئلے کی بڑے پیمانے پر کان کنی، پاور جنریشن، زمین کے حصول، نقل مکانی، پانی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات خواتین کی صحت، روزگار، آزادانہ نقل و حرکت، تحفظ اور بچوں کے مستقبل تک پہنچ رہے ہیں۔

خواتین نے مطالبہ کیا کہ قانونی طور پر محفوظ اور شفاف ”تھر کول رائلٹی فنڈ“ قائم کیا جائے، جس کے بورڈ، منصوبہ بندی، بجٹ اور نگرانی میں متاثرہ دیہات کی خواتین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کو بامعنی نمائندگی دی جائے۔

انہوں نے تھر میں بچوں کی اموات، غذائی قلت اور ماں و بچے کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ رائلٹی سے معیاری اسپتال، ماں اور بچے کی صحت کے مراکز، غذائی پروگرام، دیہی صحت کی سہولیات اور ایمرجنسی ریفرل و ٹرانسپورٹ کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

خواتین رہنماؤں نے خواتین میں رپورٹ ہونے والی خودکشیوں، ذہنی دباؤ، گھریلو، جنسی و جسمانی تشدد، ہراسانی، جبری شادیوں اور معاشی استحصال کی روک تھام کے لیے جامع اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ذہنی صحت اور کونسلنگ، خودکشی کی روک تھام، محفوظ پناہ گاہوں، قانونی و طبی امداد، ایمرجنسی ہیلپ لائنز اور خطرے سے دوچار خواتین کے لیے محفوظ سپورٹ سسٹم قائم کیے جائیں۔

انہوں نے صاف اور محفوظ پانی کو خواتین اور بچوں کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے ہر تحصیل میں پانی کے معیار کی جانچ کے لیے قابلِ اعتماد لیبارٹریاں قائم کرنے، زیرِ زمین پانی کی نگرانی، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، روایتی آبی ذخائر کی بحالی اور زیرِ زمین پانی کے ری چارج پر مستقل سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا۔

خواتین نے بچیوں کے لیے اسکالرشپس، معیاری تعلیمی اداروں، یونیورسٹی کیمپس، ڈیجیٹل تعلیم، ووکیشنل اور ٹیکنیکل تربیت کے مواقع بڑھانے کے ساتھ خواتین کے مقامی ہنر، چھوٹے کاروبار، مویشی پالنے اور زراعت کے لیے مالی و فنی معاونت فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔

کوئلے کی وجہ سے زمین سے محروم اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے منصفانہ معاوضہ، محفوظ بحالی، بنیادی سہولیات اور متبادل روزگار فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زمین، معاوضے اور بحالی سے متعلق فیصلوں میں خواتین کی رائے، ضروریات اور حقوق کو واضح طور پر تسلیم کیا جائے۔

خواتین رہنماؤں نے کوئلے کے منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات کی آزادانہ نگرانی، زمینوں، چراگاہوں، زیرِ زمین پانی، حیاتیاتی تنوع اور مقامی شجرکاری کی بحالی کے ساتھ نامیاتی زراعت اور مویشی پالنے کی معیشت میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ شمسی، ہوائی اور دیگر صاف توانائی کے ذرائع کی جانب ”منصفانہ توانائی منتقلی“ (Just Energy Transition) کو پالیسی ترجیح بنایا جائے اور رائلٹی سے مقامی سولر انرجی، صاف آبپاشی، خواتین کے کاروبار کے لیے شمسی توانائی اور گرین اسکلز میں سرمایہ کاری کی جائے۔

رائلٹی کے استعمال میں شفافیت کے لیے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ہر سال رائلٹی کی مجموعی وصولی، تھر کے لیے مختص رقم، اخراجات اور باقی رقم سے متعلق وائٹ پیپر جاری کیا جائے، آزاد آڈٹ کرایا جائے اور تھرپارکر میں سالانہ عوامی سماعت منعقد کی جائے، جس میں متاثرہ خواتین اور کمیونٹیز کو براہِ راست اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔

پریس کانفرنس کے دوران سندھ اسمبلی سے ”تھر کول رائلٹی مینجمنٹ اینڈ تھر ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ“ منظور کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ خواتین نے کہا کہ قانون کے تحت ایک بااختیار اور خودمختار تھر ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے، جو رائلٹی کے شفاف استعمال کے ساتھ تھر کی صحت، تعلیم، صاف پانی، روزگار، ماحولیاتی بحالی، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے جامع منصوبہ بندی کرے۔

مزید خبریں

Back to top button