گورنمنٹ بوائز کالج ماتلی میں ایک ماہ سے ٹرانسفارمر خراب

ماتلی(رپورٹ ایم آر گدی/جانو /ڈاٹ پی کے)سندھ کے قدیم اور اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہونے والے گورنمنٹ بوائز کالج ماتلی میں گزشتہ ایک ماہ سے ٹرانسفارمر خراب ہونے کے باعث 2200 سے زائد طلبہ، 25 سے زائد گزٹیڈ افسران، اساتذہ اور درجنوں لوئر اسٹاف شدید گرمی اور حبس کے عالم میں بجلی سے محروم رہ کر فرسٹ ائیر اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانی مراحل مکمل کرانے پر مجبور رہے، ماتلی میں درجہ حرارت 45 سینٹی گریڈ تک پہنچنے اور سورج آگ برسانے کے باوجود کالج میں بجلی بحال نہ ہو سکی جبکہ سندھ بھر میں امتحانات کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے اعلانات کیے جاتے رہے، شدید گرمی، بند پنکھوں اور بجلی کی عدم دستیابی کے باعث طلبہ و طالبات کو امتحانات کے دوران شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ امتحانی عملے، گزٹیڈ افسران اور دیگر اسٹاف نے بھی سخت مشکلات کے باوجود امتحانی سرگرمیاں جاری رکھیں، ذرائع کے مطابق گورنمنٹ بوائز کالج ماتلی کے پرنسپل محمد فاروق کھٹی نے حیسکو حکام کو متعدد مرتبہ تحریری طور پر آگاہ کیا کہ کالج کا 25 کلوواٹ ٹرانسفارمر عرصہ دراز سے خراب پڑا ہے جس کے باعث تدریسی اور امتحانی نظام شدید متاثر ہو رہا ہے تاہم بارہا خطوط ارسال کیے جانے کے باوجود مسئلو حل نہ ہو سکا، پرنسپل کی جانب سے حیسکو حکام کو یہ بھی بتایا گیا کہ کالج کا موجودہ ٹرانسفارمر عمارت کی پچھلی جانب نصب ہے جہاں رات اور دن کے مختلف اوقات میں قریبی آبادیوں کے بعض افراد مبینہ طور پر ناجائز کنڈیاں لگا کر بجلی حاصل کرتے ہیں جس کے باعث ٹرانسفارمر پر اضافی لوڈ پڑتا ہے اور بجلی کا نظام مسلسل متاثر رہتا ہے، کالج انتظامیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ٹرانسفارمر کو کالج کی فرنٹ سائیڈ پر ادارے کی حدود کے اندر منتقل کیا جائے تاکہ بجلی چوری اور ناجائز کنڈیوں کے رجحان کو روکا جا سکے جبکہ موجودہ 25 کلوواٹ ٹرانسفارمر کی گنجائش ناکافی ہونے کے باعث اسے اپ گریڈ کر کے 50 کلوواٹ کا نیا ٹرانسفارمر فراہم کیا جائے تاکہ آئندہ طلبہ، اساتذہ اور عملے کو اس قسم کی مشکلات اور اذیت ناک صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے، دوسری جانب طلبہ، والدین، اساتذہ اور سماجی حلقوں نے امتحانات جیسے حساس مرحلے میں حیسکو کی مبینہ غفلت اور لاپروائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، کالج کا بجلی نظام مستقل بنیادوں پر بحال کرنے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button