بدین: خاتون کا مبینہ تشدد اور ہراساں کیے جانے کیخلاف احتجاج،اعلیٰ حکام سے تحفظ اورانصاف کی اپیل

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے) ٹنڈوباگو کے قریب گاؤں احمد زئنور کی رہائشی خاتون شیرین زئنور نے اپنے مبینہ مخالفین کی جانب سے تشدد، ہراساں کرنے اور بچوں کو خوفزدہ کرنے کے خلاف بدین پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تحفظ اور انصاف کی اپیل کی ہے احتجاج کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیرین زئنور نے الزام عائد کیا کہ گاؤں کے رہائشی قربان زئنور، فراز زئنور اور ان کے گھر کی خواتین مبینہ طور پر اسے اور اس کے بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتے اور ہراساں کرتے ہیں۔ خاتون کے مطابق مخالفین مبینہ طور پر گاؤں میں منشیات کے کاروبار میں بھی ملوث ہیں شیرین زئنور کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے گاؤں کے معززین، جن میں رجب زئنور اور دیگر شامل ہیں، کو بھی معاملے سے آگاہ کیا، تاہم مبینہ تشدد کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ خاتون کے مطابق وہ اس سے قبل بھی مخالفین کے خلاف ٹنڈوباگو تھانے میں مقدمہ درج کرا چکی ہے، تاہم اسے انصاف نہیں مل سکا خاتون نے الزام عائد کیا کہ سابقہ کیس کی تفتیش کے دوران ٹنڈوباگو تھانے کے ایک اے ایس آئی وزیر انڑ نے مبینہ طور پر اس سے 3 ہزار روپے لیے، لیکن اس کے باوجود اسے انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔ شیرین زئنور کا کہنا تھا کہ وہ متعدد مرتبہ متعلقہ افراد کے خلاف شکایات اور مقدمات درج کرا چکی ہے، مگر ایک غریب اور بے سہارا خاتون ہونے کے باعث اس کی فریاد پر مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی متاثرہ خاتون نے بتایا کہ مبینہ تشدد اور خوف کے باعث اس کے معصوم بچے شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں اور گھر سے باہر نکلنے، گاؤں میں جانے اور حتیٰ کہ اسکول جانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ اس صورتحال نے بچوں کی تعلیم اور معمول کی زندگی کو بھی متاثر کر دیا ہے۔
شیرین زئنور کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل ٹنڈوباگو پریس کلب سمیت مختلف مقامات پر بھی احتجاج اور اپنی فریاد پیش کر چکی ہے، لیکن تاحال اسے اور اس کے بچوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا خاتون نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے اپیل کی ہے کہ اس کے الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اسے اور اس کے بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے شیرین زئنور نے خبردار کیا کہ اگر اسے یا اس کے بچوں کو کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری ان افراد پر عائد ہوگی جن کے خلاف وہ مسلسل شکایات کرتی آ رہی ہے



