افغانستان،ڈریس کوڈکیخلاف احتجاج پر طالبان نے خواتین پر گولیاں برسادیں،2جاں بحق

ہرات(جانوڈاٹ پی کے)افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں خواتین نے طالبان کی سخت گیری اور ڈریس کوڈ کیخلاف بھرپور احتجاج کیا جس میں مردوں کی بھی بڑی تعداد شریک تھی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق احتجاج کے دوران طالبان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔طالبان اہلکاروں نے نہ صرف مظاہرین پر ڈنڈے برسائے بلکہ نہتی خواتین پر براہ راست گولیاں بھی برسا دیں جس میں مبینہ طور پر دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

مقامی طبی ذرائع نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ اموات کس وجہ سے ہوئیں۔خیال رہے کہ یہ احتجاج ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا کہ مقامی حکام نے ان خواتین کی گرفتاری شروع کی تھی جن پر الزام تھا کہ وہ حجاب صحیح طریقے سے نہیں پہن رہی ہیں۔عینی شاہدین اور مظاہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان سیکیورٹی فورسز نے احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیوں، کوڑوں اور گولیوں کا بھی استعمال کیا۔بعض ویڈیوز میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں جبکہ لوگوں کو چیختے ہوئے دیکھا گیا۔مظاہرے میں شامل ایک شخص نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ہجوم پر لاٹھی چارج کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی جبکہ ایک فوٹوگرافر کے مطابق متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔دوسری جانب ہرات پولیس نے مظاہرین کی ہلاکتوں کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ مشتعل افراد نے شر انگیزی ککی اور امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی جس پر سیکیورٹی فورسز نے صرف اپنی ذمہ داری نبھائی۔

مزید خبریں

Back to top button