اٹارنی جنرل کے گھرغلط ریڈ’’پلسیوں‘‘کو مہنگی پڑگئی،معطلیوں کی جھڑی لگ گئی،معطل افسروں کو ضمانت مل گئی

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) اٹارنی جنرل آف پاکستان کے گھر مبینہ طور پر غلط چھاپہ مارنے کے معاملے میں محکمانہ کارروائی کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ (ڈی آئی بی) کینٹ ڈویژن کے ذمہ دار افسران کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ کینٹ ڈویژن کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ڈی آئی بی کینٹ کے انچارج نے ایس پی کینٹ اور ایس ایچ او سرور روڈ کو غلط معلومات فراہم کیں، جس کے نتیجے میں غلط مقام پر چھاپہ مارا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی آئی بی کینٹ ڈویژن کے انچارج افسر نے نہ صرف غلط ریڈ میں معاونت کی بلکہ مبینہ طور پر غلط لوکیشن شیئر کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ واقعے کے تمام پہلوؤں سے متعلق مزید محکمانہ انکوائری جاری ہے۔
دوسری جانب لاہور کی مقامی عدالت میں ایس ایچ او سرور روڈ عرفان کی عبوری درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج ڈیوٹی سلمان طارق نے درخواست منظور کرتے ہوئے عبوری ضمانت 12 اگست تک منظور کر لی۔
یاد رہے کہ اختیارات سے تجاوز کے الزام میں ایس ایچ او سرور روڈ سمیت 11 پولیس اہلکاروں کے خلاف تھانہ سرور روڈ میں پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ اختیارات سے تجاوز کی دفعات کے تحت درج کیا گیا، جبکہ غلط ریڈ کے معاملے پر ایس ایچ او سمیت متعلقہ تھانے کے عملے کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



