کوٹری بیراج پر پانی میں اضافہ، اکرم کینال کمانڈ ایریا پھر بھی خشک، ہزاروں ایکڑ فصلیں خطرے میں

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے) کوٹری بیراج پر 40 ہزار کیوسک پانی، پھر بھی اکرم کینال کمانڈ ایریا خشک، ہزاروں ایکڑ فصلیں خطرے میں کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں نمایاں اضافے کے باوجود سندھ کے ٹیل کے زرعی علاقوں خصوصاً اکرم کینال کمانڈ ایریا میں پانی کی شدید قلت برقرار ہے، جس کے باعث ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں متاثر ہونے لگی ہیں جبکہ نئی خریف فصلوں کی بوائی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ سندھ آبادگار بورڈ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 23 جون 2026ء کی صبح 6 بجے کوٹری بیراج پر اپ اسٹریم پانی کی آمد 38 ہزار 955 کیوسک ریکارڈ کی گئی، جوشام تک چالیس ہزار کیوسک ہوگئی تھی، جبکہ مختلف نہروں میں مجموعی طور پر 37 ہزار 155 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ یہ مقدار مقررہ ایلوکیشن 33 ہزار 800 کیوسک سے 3 ہزار 355 کیوسک زیادہ ہے، تاہم اس کے باوجود اکرم واہ کمانڈ ایریا کی چار آبپاشی سب ڈویژنوں میں پانی کی قلت ختم نہ ہو سکی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اکرم واہ کو 3 ہزار 460 کیوسک پانی مختص کیا گیا ہے مگر 23 جون کو اس میں صرف 2 ہزار 530 کیوسک پانی چھوڑا گیا، جو مقررہ حصے سے کم ہے۔ اس کے برعکس کلری بگھار، پرانی پھلیلی اور نئی پھلیلی نہروں میں مختص مقدار سے کہیں زیادہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی غیر متوازن تقسیم اور ترسیلی نظام کی کمزوریاں ٹیل کے علاقوں میں بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں، پنگریو، کھوسکی۔شادی لارج۔ٹنڈوباگو۔ اور ملحقہ علاقوں کے آبادگاروں نے بتایا کہ دھان، کپاس، سبزیوں اور چارہ جات کی فصلوں کو پانی نہ ملنے کے باعث نقصان پہنچ رہا ہے۔ کئی مقامات پر زمینیں خشک ہو رہی ہیں اور کسان نئی فصلوں کی بوائی شروع کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خریف سیزن کے ابتدائی مرحلے میں پانی کی کمی پیداوار میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتی ہے جس کے اثرات مقامی معیشت اور غذائی تحفظ پر بھی مرتب ہوں گے۔ زرعی ماہرین کے مطابق جون اور جولائی کے مہینے دھان اور کپاس کی فصلوں کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں اور اس دوران آبپاشی میں تعطل پیداوار کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیل کے علاقوں تک مقررہ پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو رواں سیزن میں زرعی نقصانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ آبادگار تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ نہری نظام میں پانی چوری، غیر قانونی کٹوں اور بعض بااثر افراد کی جانب سے اضافی پانی لینے کے باعث آخری سروں تک پانی نہیں پہنچ رہا۔ کاشتکار تنظیموں اور آبادگار رہنماؤں نے محکمہ آبپاشی سے مطالبہ کیا ہے کہ اکرم کینال کمانڈ ایریا کی تمام سب ڈویژنوں میں فوری طور پر پانی کی فراہمی بہتر بنائی جائے، نہروں کی سخت نگرانی کی جائے، پانی چوری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ فصلوں کو تباہی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو متاثرہ علاقوں کے آبادگار احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے

مزید خبریں

Back to top button