میئر کا عہدہ ختم کرنے کی تجویز پر خواجہ سعد رفیق پھٹ پڑے، بڑا دعویٰ کردیا!

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے بڑے شہروں کے بلدیاتی نظام میں میئر کے عہدے کے حوالے سے اہم مطالبات سامنے رکھتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد اور لاہور سمیت بڑے شہروں سے میٹروپولیٹن یا میونسپل کارپوریشن کے میئر کا عہدہ ختم کرنا لوکل گورنمنٹ سسٹم کو کمزور اور بیوروکریسی کو مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میئر کا انتخاب ’ون مین ون ووٹ‘ کی بنیاد پر براہِ راست ہونا چاہیے تاکہ شہری اپنے شہر کی قیادت کا خود انتخاب کرسکیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مختلف ادوار میں دیگر اداروں اور اتھارٹیز کو بلدیاتی اداروں سے منتقل کیے گئے آئینی اختیارات واپس بلدیاتی حکومتوں کو دیے جائیں۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ کے ساتھ ساتھ مالی خودمختاری بھی فراہم کی جانی چاہیے، جبکہ صوبائی حکومتوں کو صوبائی سطح پر اختیارات کے ارتکاز کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
لیگی رہنما نے مزید کہا کہ پراونشل فنانس ایوارڈ کے ذریعے مرکز اور صوبے سے حاصل ہونے والے وسائل ضلعی سطح پر منتقل کیے جائیں تاکہ مقامی حکومتیں حقیقی معنوں میں عوامی مسائل حل کرسکیں۔
خواجہ سعد رفیق نے شہر میں متعدد اتھارٹیز کی موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک ہی شہر میں چھ چھ اتھارٹیز ایک ہی کام کریں گی تو نظام کیسے چلے گا؟
انہوں نے کہا کہ بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق میونسپل کمیٹیوں، کارپوریشنز اور کینٹونمنٹ بورڈز کے علاوہ ایک جیسے کام کرنے والے دیگر اداروں کا وجود آئین سے متصادم ہے۔
خواجہ سعد رفیق کے بیان نے ملک میں بلدیاتی نظام، اختیارات کی تقسیم اور بیوروکریسی کے کردار سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔



