کتابوں کو نقصان پہنچائے بغیر ڈیجیٹل محفوظ کرنے کا جدید نظام متعارف،آٹومیٹڈ بک اسکیننگ سے آرکائیونگ میں نئی پیش رفت

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ:جانوڈاٹ پی کے)دنیا بھرمیں نایاب، تاریخی اور قیمتی کتابوں کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانے کی غرض سے آٹومیٹڈ بک اسکیننگ (Automated Book Scanning) ٹیکنالوجی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ یہ جدید نظام کتابوں کو نقصان پہنچائے بغیر ان کی ڈیجیٹل نقول تیار کرتا ہے، جس سے لائبریریوں، آرکائیوز، جامعات اور تحقیقی اداروں کو اپنے علمی ذخیرے کو محفوظ رکھنے میں بڑی سہولت مل رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق روایتی اسکیننگ کے دوران کتاب کو مکمل طور پر کھولنا پڑتا ہے، جس سے پرانی یا نازک جلدوں، صفحات اور بائنڈنگ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس کے برعکس جدید آٹومیٹڈ بک اسکینرز خاص ڈیزائن کے حامل ہوتے ہیں، جن میں کتاب کو مخصوص زاویے پر رکھا جاتا ہے جبکہ حساس کیمرے اور سینسر بغیر دباؤ ڈالے ہر صفحے کی اعلیٰ معیار کی تصویر محفوظ کرتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت (AI)، کمپیوٹر ویژن اور آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن (OCR) جیسی جدید سہولیات بھی شامل کی جا رہی ہیں، جن کی مدد سے نہ صرف صفحات کی تصاویر محفوظ ہوتی ہیں بلکہ متن کو قابلِ تلاش (Searchable) ڈیجیٹل فارمیٹ میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے محققین اور طلبہ کو مطلوبہ معلومات تک فوری رسائی حاصل ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹومیٹڈ بک اسکیننگ کے ذریعے ہزاروں صفحات پر مشتمل کتابوں کو نسبتاً کم وقت میں اسکین کیا جا سکتا ہے، جبکہ نایاب مخطوطات، قدیم نسخے اور تاریخی دستاویزات اپنی اصل حالت میں محفوظ رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی لائبریریاں اور قومی آرکائیوز اس ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔
تعلیمی شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کی قومی، صوبائی اور جامعاتی لائبریریوں میں بھی اس جدید نظام کو متعارف کرایا جائے تو نایاب کتب، تاریخی ریکارڈ، سرکاری دستاویزات اور مخطوطات کو محفوظ بنانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محققین، طلبہ اور عام شہریوں کو آن لائن ڈیجیٹل لائبریریوں کے ذریعے ان قیمتی علمی ذخائر تک آسان رسائی بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ڈیجیٹل آرکائیونگ نہ صرف علمی ورثے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ قدرتی آفات، آتشزدگی، نمی، دیمک اور وقت کے ساتھ کاغذ کے خراب ہونے جیسے خطرات سے بھی قیمتی کتب کو محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔ جدید آٹومیٹڈ بک اسکیننگ ٹیکنالوجی کو مستقبل میں علمی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
Automated book scanning process to digitally preserve for archiving without damaging the book pic.twitter.com/y0uw8CtMA2
— Science girl (@sciencegirl) July 29, 2026



