وفاقی سطح پر صوبائی اختیارات میں کمی یا انہیں مرکز کے حوالے کرنے کی سوچ کو مسترد کرتے ہیں،ڈاکٹر عبدالواحد سومرو

ٹھٹھہ(رپورٹ:جاوید لطیف میمن/جانوڈاٹ پی کے)پی پی سندھ کے صوبائی رہنما اور سابق ایم این اے ٹھٹھہ ڈاکٹر عبدالواحد سومرو نے وفاقی سطح پر صوبائی اختیارات میں کمی یا انہیں مرکز کے حوالے کرنے کی سوچ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی نظام کی بہتری کے لیے یہ ضروری نہیں کہ صوبوں کے اختیارات وفاق کو دیے جائیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ اختیارات اضلاع تک پہنچائے جائیں تاکہ مقامی سطح پر مسائل حل ہو سکیں۔
ڈاکٹر عبدالواحد سومرو نے کہا کہ اختیارات کا ایک جگہ جمع ہونا انتظامی مشکلات پیدا کرتا ہے، اس لیے 18ویں ترمیم کی روح کے مطابق صوبوں کو ملے ہوئے اختیارات کو مزید نچلی سطح تک لے جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اضلاع کو بااختیار بنانے سے ہی تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کے فوائد براہِ راست عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔
وفاقیت کی سوچ نے ہمارے ملک کو کمزور کیا ہے۔ ہمیں دو قدم آگے بڑھ کر صوبوں اور اضلاع کو مضبوط کرنا چاہیے، نہ کہ ایسے کام کرنے چاہییں جس سے ہمارا ملک کمزور ہو۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد کرایا جانا چاہیے تاکہ ہمارا ملک مضبوط ہو۔
جب پاکستان بنا تھا تو کہا گیا تھا کہ 1940 کی قرارداد کے تحت صوبائی خودمختاری دی جائے گی، لیکن ایسا نہ ہوا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو شاید مشرقی پاکستان ہم سے جدا نہ ہوتا۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بڑے دل سے 18ویں ترمیم پاس کرائی جس سے پاکستان مضبوط ہوا، لیکن اگر اب 18ویں ترمیم کو واپس لیا گیا تو یہ پاکستان کی سلامتی پر حملہ ہوگا۔



