سندھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دو برس میں 33 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کرادی
مالی بے ضابطگیاں برداشت نہیں ہوں گی، آڈٹ ریکارڈ نہ دینے والے افسران کے خلاف کارروائی ہوگی، نثار کھوڑو

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے جولائی 2024 سے جون 2026 کے دوران مختلف وفاقی اور صوبائی محکموں سے 33 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کرا کر سرکاری خزانے میں جمع کرا دی۔ اس دوران کمیٹی کے 188 اجلاس منعقد ہوئے جبکہ مختلف محکموں کے 787 آڈٹ پیراز نمٹائے گئے۔
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نثار کھوڑو نے بتایا کہ صارفین سے الیکٹرک سٹی ڈیوٹی کی مد میں وصول کیے گئے 11 ارب 904 ملین روپے بھی ریکور کرائے گئے، جبکہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے پانی کے بلوں کی مد میں مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں سے 12 ارب 594 ملین روپے سے زائد واجبات وصول کیے گئے۔ اس کے علاوہ سندھ کے مختلف محکموں سے تقریباً 10 ارب روپے کی وصولیاں بھی کی گئیں۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ پی اے سی عوام کے ٹیکس کے پیسوں میں خردبرد اور مالی بے ضابطگیوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام محکمے عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کریں، جبکہ جہاں مالی بے ضابطگیاں ثابت ہوں گی وہاں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے سرکاری محکموں کو خبردار کیا کہ آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرنے کا رویہ ناقابل قبول ہے اور جو محکمے مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کریں گے، ان کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں تین مرتبہ بلدیاتی حکومتوں نے اپنی آئینی مدت مکمل کی، جبکہ دیگر صوبوں میں بلدیاتی نظام فعال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ہر سال بلدیاتی اداروں کو 156 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کر رہی ہے تاکہ نچلی سطح پر نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ سندھ بھر کی لوکل کونسلز کے ملازمین کی ریشنلائزیشن کی جائے تاکہ جہاں عملے کی کمی ہے وہاں ضرورت پوری کی جا سکے۔ انہوں نے کے ایم سی کی طرز پر تمام بلدیاتی اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں SAP سسٹم کے ذریعے آن لائن ادا کرنے کی بھی تجویز دی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
چیئرمین پی اے سی نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ سندھ کی تمام 1600 یونین کونسلز اپنے ترقیاتی فنڈز سے ہر ماہ تین لاکھ روپے مالیت کے سولر پینلز خرید کر مستحق خاندانوں میں مفت تقسیم کریں، جس سے ہر ماہ تقریباً 48 کروڑ روپے کے سولر پینلز عوام تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے آر بی او ڈی ٹو منصوبے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 273 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ 14 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہوا تھا، تاہم لاگت تین بار نظرثانی کے بعد 64 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 40 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود گزشتہ 10 برس سے منصوبہ عملی طور پر بند پڑا ہے، لہٰذا سندھ حکومت فوری طور پر کنسلٹنٹ مقرر کر کے منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرائے۔



