سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت،مجوزہ28ویں آئینی ترمیم،مہنگائی کیخلاف عوامی تحریک کی ریلی

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت، متوقع 28ویں آئینی ترمیم، خواتین کے قتلِ عام، مہنگائی اور منشیات کے خلاف عوامی تحریک کی جانب سے گولارچی میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

ریلی کے شرکاء شہر کی مختلف سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے شہید فاضل راہو چوک پہنچے، جہاں مظاہرین نے دھرنا دے کر کراچی-بدین شاہراہ کو بلاک کر دیا۔ شاہراہ کی بندش کے باعث مختلف شہروں سے آنے اور جانے والی ٹریفک کو عارضی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا شہید فاضل راہو چوک پر عوامی تحریک کے مرکزی رابطہ سیکریٹری لال جروار، ضلعی صدر مہران درس، سندھی ہاری تحریک کے ضلعی صدر جاکھرو نوحانی، محمد علی تالپور، سچل ہالیپوٹہ، آبادگار رہنما ارشد آرائیں، گلزار نوحانی، اللہ بچایو جتوئی، غلام علی نوحانی اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں مصنوعی طور پر پانی کی قلت پیدا کرکے کربلا جیسی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ میں خریف کی فصلوں کی کاشت کا موسم جاری ہے، لیکن صوبے کو اس کے حصے کا پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ ضلع بدین کے ٹیل اور آخری سرے کے علاقوں میں پینے کے لیے پانی کی ایک بوند بھی میسر نہیں، جبکہ جنگلی حیات بھی پانی کی شدید کمی کے باعث خطرات سے دوچار ہے مقررین کے مطابق دھان کی کاشت کے لیے تیار کی گئی پنیری پانی نہ ملنے سے سوکھ کر تباہ ہو رہی ہے، جس کے باعث ہاریوں اور کسانوں کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارسا کے ادارے اور این ایف سی کے تحت سندھ کے حصے کے 260 ارب روپے وفاق کے حوالے کرنا صوبے کے ساتھ ناانصافی ہےانہوں نے مزید کہا کہ ضلع بدین میں تیل و گیس کمپنیوں میں مقامی افراد کو روزگار نہیں دیا جاتا اور نہ ہی مقامی دیہات کو گیس کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساحلی پٹی کی لاکھوں ایکڑ اراضی پر قبضے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور کارپوریٹ فارمنگ، نئی میگا سٹی اور ذوالفقار آباد جیسے منصوبوں کے ذریعے سندھیوں کو اپنے تاریخی وطن میں اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے مقررین نے کہا کہ ضلع بدین کی بیشتر سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں، اسکولوں کی عمارتیں کھنڈرات بن چکی ہیں جبکہ صحت کے اداروں کی حالت بھی انتہائی خراب ہے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور ادویات کی شدید کمی ہے اور انتظامیہ عملی طور پر غیر فعال ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق سرکاری افسران، ملازمین اور تھانے بااثر وڈیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ سندھ کو خواتین کے لیے مقتل گاہ بنا دیا گیا ہے جہاں آئے روز معصوم اور بے گناہ خواتین قتل کی جا رہی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ چند روز قبل کھورواہ میں آمنہ خاصخیلی کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، جس کے ورثاء قاتلوں کی گرفتاری کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، مگر پولیس اب تک ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے انہوں نے مزید کہا کہ قاسم آباد کے علاقے نسیم شاپنگ مال کے ایک فلیٹ میں دن دہاڑے نشے کے عادی افراد نے افشاں چانڈیو کے گھر میں داخل ہو کر خواتین اور بچوں پر قاتلانہ حملہ کیا اور انہیں زخمی کر دیا، تاہم اس واقعے کا مرکزی ملزم تاحال پولیس کی گرفت سے باہر ہے مقررین کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں اور منشیات فروشوں کو پولیس اور پیپلز پارٹی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے، جس کے باعث ضلع بدین سمیت پورے سندھ میں منشیات کا کاروبار عام ہو چکا ہے اور نوجوان نسل تباہی کی طرف جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سندھ میں نئے صوبوں کا قیام ملک کو تقسیم کرنے کے مترادف ہوگا اور سندھ کے عوام اس سازش کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button