امریکہ ایران ڈیل میں منجمد اثاثے اور پابندیوں میں نرمی اہم مسئلہ بن گئے

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تہران کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی اہم اور حساس معاملہ بن گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ امریکا براہِ راست ایران کو مالی وسائل فراہم کر رہا ہے، اسی لیے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں میں نرمی مذاکرات کے سب سے پیچیدہ نکات میں شامل ہیں۔

امریکا طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں اور بیرون ملک موجود ایرانی اثاثوں تک رسائی کو دباؤ کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے تاکہ ایران کی معاشی سرگرمیوں اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود رکھا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ منجمد اثاثوں کی واپسی کا فائدہ فوری طور پر عام ایرانی شہریوں تک مکمل طور پر نہ پہنچے، تاہم برسوں سے پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ایرانی معیشت کو اس سے نمایاں سہارا مل سکتا ہے۔

اندازوں کے مطابق بیرونِ ملک منجمد ایرانی فنڈز کی مالیت 100 سے 120 ارب امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ اثاثوں کی واپسی اور پابندیوں میں نرمی کسی بھی معاہدے کا بنیادی حصہ ہو، جبکہ امریکا سخت شرائط اور کڑی نگرانی کے ساتھ محدود رعایتوں کا خواہاں ہے۔

مزید خبریں

Back to top button