سجاول میں گریڈ ایک تا چار بھرتیوں کے انٹرویوز بدنظمی کا شکار،امیدواروں کادھرنا

سجاول(گلشيرمير/جانوڈاٹ پی کے)ضلع سجاول میں گریڈ ایک سے چار تک مختلف سرکاری محکموں کی خالی اسامیوں پر بھرتیوں کے سلسلے میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے محکمہ تعلیم میں لوئر گریڈ اسامیوں کے لیے ہونے والے انٹرویوز بدنظمی کا شکار ہوگئے، جس پر امیدواروں نے احتجاج کرتے ہوئے بوائز ہائی اسکول سجاول کے سامنے حیدرآباد۔ٹنڈو محمد خان روڈ پر دھرنا دیا اور بھرتی کے عمل میں شفافیت پر سوالات اٹھا دیے۔ محکمہ تعلیم میں پرائمری کی 138 اور سیکنڈری کی 58 لوئر گریڈ آسامیوں کے لیے ضلع سجاول کے مختلف علاقوں چوہڑ جمالی، شاہ بندر، میرپور بٹھورو، جاتی، دڑو، بیلو اور دیگر علاقوں سے ہزاروں امیدوار انٹرویو دینے بوائز ہائی اسکول سجاول پہنچے۔ غیر معمولی رش کے باعث انٹرویو سینٹر پر شدید افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی اور انتظامات ناکافی ہونے کے باعث انٹرویو کا عمل متاثر ہوا۔ شدید رش کے باعث انٹرویو کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا اور انٹرویو لینے والا عملہ ریکارڈ اور دیگر دستاویزات کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔اس دوران 33 سال سے زائد عمر کے امیدواروں کو بھی واپس جانے کے لیے کہا گیا، جس پر انٹرویو کے لئے آئے ہوئے نوجوانوں کی جانب سے سڑک پر دھرنا دے کر احتجاج کیا۔ مظاہرین میں شامل نعمان کنبھار، علی اصغر خاصخیلی، عظیم درس، غلام عباس خاصخیلی، قربان علی میربحر، سید احسان شاہ، دلشاد پٹھان، شہباز چانڈیو اور دیگر نے الزام عائد کیا کہ بعض امیدواروں سے باقاعدہ انٹرویو لینے کے بجائے صرف دستخط کروا کر واپس بھیج دیا گیا، جس سے بھرتی کے عمل کی شفافیت پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ امیدواروں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اگر تقرریاں سفارش یا رشوت کی بنیاد پر ہی کرنی تھیں تو ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو انٹرویو کے لیے طلب کرنے کی ضرورت نہیں تھی، تاہم انہوں نے اپنے ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ گریڈ ایک سے چار تک کی تمام بھرتیاں مکمل شفافیت، میرٹ اور مساوی مواقع کی بنیاد پر کی جائیں تاکہ کسی امیدوار کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔



