حوثی حملوں کے بعد ریاض ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن متاثر، 446 پروازیں منسوخ

ریاض(ویب ڈیسک) حوثی ملیشیا کے تازہ حملوں کے باعث سعودی عرب میں فضائی آپریشن شدید متاثر ہو گیا، جس کے بعد ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ہوائی اڈوں میں شامل ہو گیا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ریاض آنے اور جانے والی 750 پروازوں میں سے 446 منسوخ کر دی گئیں، جبکہ متعدد پروازوں کا رخ سعودی عرب کے دیگر شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کئی گھنٹوں سے بند ہے اور ریاض کے لیے آنے والی پروازوں کو دمام، مدینہ اور جدہ کے ہوائی اڈوں پر اتارا جا رہا ہے، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سعودی عرب کے دیگر بڑے ہوائی اڈے بھی فضائی آپریشن میں خلل سے متاثر ہوئے ہیں۔ جدہ ایئرپورٹ کی 830 میں سے 92 پروازیں متاثر ہوئیں، مدینہ ایئرپورٹ کی 230 میں سے 26 پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ دمام ایئرپورٹ کی 240 میں سے 39 پروازیں منسوخ ہوئیں۔
کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ کویت ایئرویز نے ریاض آنے اور جانے والی اپنی دو پروازیں ایئرپورٹ کی بندش اور سکیورٹی خدشات کے باعث منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اتحاد ایئرویز نے ابوظہبی اور ریاض کے درمیان متعدد پروازیں 12 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں، جبکہ ایئر انڈیا نے ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی میں 15 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ فلائی دبئی، ترکیش ایئرلائنز، لفتھانزا اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے بھی آئندہ چند روز کے لیے ریاض جانے والی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے سعودی فضائی حدود سے متعلق اپنی ہدایات میں توسیع کر دی ہے۔ ایجنسی کے مطابق حوثی ملیشیا کی سعودی عرب کے اندر مزید گہرائی تک اہداف کو نشانہ بنانے اور فضائی سفر کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی صلاحیت کے باعث سکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔
جرمنی، کینیڈا اور اسپین نے بھی اپنے شہریوں کو ریاض، بالخصوص کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا سفر کرنے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ فضائی آپریشن میں تعطل کے باعث بین الاقوامی پروازوں، مسافروں کی آمدورفت اور علاقائی فضائی سفر پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
نوٹ: پروازوں کی منسوخی اور فضائی پابندیوں سے متعلق اعدادوشمار اور تاریخیں فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق شامل کی گئی ہیں؛ سفر سے پہلے متعلقہ ایئرلائن یا ایئرپورٹ سے تازہ ترین صورتحال کی تصدیق ضروری ہے۔



