صوبوں کی تقسیم پر پارلیمنٹ میں بحث ہوگی، معاملہ 6 سے 8 ماہ لے سکتا ہے، رانا ثناء اللہ

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پارلیمنٹ میں آیا تو تمام ارکان اپنی رائے دیں گے، اس حوالے سے پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی بھی بنائی جاسکتی ہے، جبکہ معاملے کو حتمی شکل دینے میں 6 سے 8 ماہ لگ سکتے ہیں۔

لاہور میں سینئر صحافیوں سہیل وڑائچ، مجیب الرحمان شامی، سلمان غنی، حفیظ اللہ نیازی اور سلیم بخاری سمیت دیگر سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نئے صوبوں کے منصوبے پر ممکنہ طور پر مسلم لیگ ن سے بات ہوئی ہوگی۔ اگر منصوبہ بنانے والوں نے ن لیگ سے مشاورت کی اور پارٹی نے اسے متعارف نہیں کرایا تو اس پر سخت ردعمل دینے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کا معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس سے نئے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ بھی نکل سکتا ہے۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق مسلم لیگ ن نے صوبوں کی تقسیم کا منصوبہ شروع نہیں کیا، جبکہ پنجاب میں پارٹی کی مقامی قیادت بہاولپور کو جنوبی پنجاب میں شامل کرنے کے حق میں نہیں۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے یا اسے لاہور کے ساتھ رکھنے سمیت مختلف تجاویز موجود ہیں، تاہم صوبوں کی تقسیم کے حق میں مسلم لیگ ن کی جانب سے تاحال کوئی بڑی بات سامنے نہیں آئی۔ ان کے مطابق صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ ہوا۔

کینال منصوبے کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے اس کی حمایت کی تھی، تاہم عوامی احتجاج کے بعد منصوبہ بند کروا دیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پس پردہ گفتگو ہو رہی ہوگی، تاہم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کی اپنی ایک قیمت ہے اور وہ قیمت چکانا پڑے گی۔

رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف مسلح ہوکر اسلام آباد آنے کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فتنہ الخوارج مبینہ طور پر بھارت کے اسپانسرڈ ہیں اور وہ پی ٹی آئی کی ریلی کو نشانہ بنا کر حکومت اور عوام کے درمیان دوری پیدا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا احتجاج ’’ٹکے ٹوکری‘‘ ہوجائے گا۔

انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ سے متعلق کہا کہ وہ کابینہ یا سینیٹ میں بات کریں گے تو ان سے جواب لے لیا جائے گا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وفاقی وزیر شیخ قیصر ان کے سامنے ہر دوسرے دن وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرتے ہیں، اس لیے شیخ قیصر کے اعتراضات یا وزیراعظم سے ملاقات نہ ہونے کی بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ بعض معاملات غور و خوض کے لیے ہوتے ہیں اور ہر چیز کو عوام کے سامنے لانا ضروری نہیں ہوتا۔

مزید خبریں

Back to top button