مصنوعی ذہانت ہوئی پرانی،اب ہے’کوانٹم انٹیلیجنس’ کی باری

تحریر:راجہ نوید
ابھی ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے سحر سے پوری طرح باہر بھی نہیں نکلے تھے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور بڑے انقلاب نے دستک دے دی ہے۔ حال ہی میں جنیوا میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس "AI for Good” میں دنیا بھر کے ماہرین نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب اگلی منزل کوانٹم کمپیوٹنگ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اب محض تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ میڈیکل سائنس اور دواسازی کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدلنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ اب سائنسدان یہ سوال نہیں کر رہے کہ مصنوعی ذہانت کیا کر سکتی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جب آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور کوانٹم کمپیوٹنگ مل کر کام کریں گے، تو کیا منظرنامہ بنے گا۔
اسی سلسلے میں مئی دو ہزار چھبیس میں سامنے آنے والی ایک نئی ریسرچ نے سائنس کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ کلیولینڈ کلینک کے پروفیسر کینتھ میرز کی قیادت میں آئی بی ایم کوانٹم اور جاپان کے مشہور رائکن انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے مل کر ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ ان ماہرین نے روایتی سپر کمپیوٹرز اور کوانٹم کمپیوٹر کے ملاپ یعنی ہائبرڈ سسٹم سے بارہ ہزار سے زائد ایٹموں پر مشتمل دو انتہائی پیچیدہ پروٹینز کا کمپیوٹر ماڈل تیار کیا ہے۔ یہ اب تک کی سب سے بڑی حیاتیاتی ماڈلنگ ہے، جس نے پرانی کوششوں کے مقابلے میں کام کے دائرہ کار کو چالیس گنا بڑھا دیا ہے، وہ بھی کمال کی درستگی کے ساتھ۔ اس کامیابی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ نئی دواؤں کی دریافت اور انسانی جسم میں ان کے اثرات کو سمجھنے کی رفتار کئی گنا تیز ہو جائے گی۔
عام کمپیوٹر اور کوانٹم کمپیوٹر میں بنیادی فرق کام کرنے کے طریقے کا ہے، جسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ روایتی کمپیوٹر بٹس پر کام کرتا ہے جو ایک وقت میں صرف ایک ہی حالت میں ہو سکتے ہیں، یعنی یا تو صفر یا پھر ایک۔ اس کے برعکس، کوانٹم کمپیوٹر کیوبٹس پر چلتا ہے اور فزکس کے حیرت انگیز اصولوں کے تحت یہ ایک ہی وقت میں صفر اور ایک دونوں حالتوں میں موجود رہ سکتا ہے۔ اسے ایک آسان مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جہاں ایک عام کمپیوٹر کسی بھول بھلیوں سے نکلنے کے لیے ایک وقت میں ایک ہی راستہ چیک کرتا ہے، وہاں کوانٹم کمپیوٹر ایک ہی لمحے میں تمام راستوں پر سفر کر کے سیکنڈوں میں درست راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ یہی صلاحیت اسے پیچیدہ ترین سائنسی گتھیوں کو سلجھانے کے قابل بناتی ہے۔
اس جدید ٹیکنالوجی سے صحت کا شعبہ سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ہے۔ عام طور پر کسی بیماری کی نئی دوا بنانے اور اسے مارکیٹ میں لانے کے لیے کئی سال اور اربوں ڈالرز درکار ہوتے ہیں، لیکن کوانٹم کمپیوٹنگ اس پورے عمل کو یکسر بدل دے گی۔ اب کمپیوٹر پر ہی جزیات کی سطح پر یہ جانچ لیا جائے گا کہ دوا جسم میں جا کر کیسے اثر کرے گی، جس سے جانوروں اور انسانوں پر تجربات کا وقت بے حد کم ہو جائے گا۔ اس طرح کینسر، رسولیوں اور نایاب جینیاتی بیماریوں کے لیے مخصوص اور زیادہ مؤثر علاج تیار کرنا آسان ہو جائے گا اور دواؤں کی تیاری پر آنے والے بے پناہ اخراجات کم ہونے سے علاج عام آدمی کی پہنچ میں آ سکے گا۔
جنیوا کانفرنس سے یہ بات بالکل صاف ہو چکی ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت ٹیکنالوجی کی جنگ صرف بہتر AI ماڈلز بنانے کی نہیں، بلکہ کوانٹم کمپیوٹرز تیار کرنے کی ہے۔ امریکہ، چین، یورپ اور جاپان اس میدان میں سبقت حاصل کرنے کے لیے اربوں ڈالرز پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ ہماری عرب دنیا بھی اس ریس سے پیچھے نہیں ہے، خصوصاً سعودی عرب نے جامعہ شاہ عبداللہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی (KAUST) کے ذریعے کوانٹم ٹیکنالوجی پر سنجیدہ ریسرچ کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے ہمیں ابھی سے اپنے تعلیمی اداروں میں کوانٹم فزکس اور ریاضی کے ماہرین کی نئی کھیپ تیار کرنا ہوگی۔
جس طرح ماضی میں کمپیوٹرز کی آمد اور حال ہی میں مصنوعی ذہانت نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا، بالکل اسی طرح کوانٹم کمپیوٹنگ ہماری اگلی منزل ہے۔ یہ صرف کمپیوٹرز کی تیز رفتار نسل نہیں ہے، بلکہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا سائنسی سنگِ میل ہے جو کائنات، زندگی اور دواؤں کی دنیا کو دیکھنے کا ہمارا پورا نظریہ بدلنے جا رہا ہے۔ جو ممالک آج اس ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں گے، وہی کل کے مستقبل کے اصل معمار ہوں گے۔



