پنجاب میں فارن ایکسچینج سیکٹر ٹیکس نیٹ میں شامل، پہلی بار سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) نے فارن ایکسچینج سیکٹر کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے پہلی مرتبہ فارن ایکسچینج سروسز کو پنجاب سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت فارن ایکسچینج سروسز پر اسپریڈ چارجز کے 3 فیصد کے مساوی سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا، جبکہ تمام ایکسچینج کمپنیوں اور متعلقہ سروس فراہم کرنے والے اداروں کے لیے ٹیکس نظام میں رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے گی۔

حکام نے سفارش کی ہے کہ فارن ایکسچینج سروسز فراہم کرنے والے تمام ادارے یکم جولائی تک اپنی رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ نئے نظام کے تحت کاروباری سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی کے مطابق اس اقدام سے فارن ایکسچینج مارکیٹ میں مالی لین دین کی مکمل دستاویز بندی، ریکارڈنگ اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوگا۔

نئے نظام کے تحت سپلائر ویری فکیشن، کاروباری لین دین کا مکمل ریکارڈ، جدید ریکارڈ کیپنگ اور ٹیکس کمپلائنس سسٹمز کو بھی لازمی بنایا جا رہا ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹنگ اور ٹیکس ریکارڈنگ سسٹمز کا فوری جائزہ لیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ اصلاحات سے صوبائی محصولات میں اضافہ، ٹیکس چوری کی روک تھام اور معیشت کو مزید دستاویزی اور شفاف بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ مالیاتی شعبے میں ریگولیٹری نگرانی بھی مضبوط ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button