پنجاب اسمبلی پی اے سی ون کا ایکشن: سرکاری جامعات میں مالی بے ضابطگیوں اور غیر قانونی الاؤنسز پر شدید تشویش
جی سی یو فیصل آباد اور سرگودھا یونیورسٹی کے آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ، بقایا جات کی وصولی کے لیے 30 دن کا الٹی میٹم

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی-I (PAC-I) کے اجلاس میں صوبے کی اعلیٰ درسگاہوں میں مالی بے ضابطگیوں، بغیر منظوری الاؤنسز کی ادائیگیوں اور واجب الادا رقوم کی عدم وصولی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
اجلاس چیئرمین پی اے سی ون چوہدری افتخار حسین چھچھر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں محکمہ ہائر ایجوکیشن، منسلک محکموں اور خودمختار اداروں کے سال 2022-23 کے آڈٹ پیراز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (GCU) فیصل آباد اور یونیورسٹی آف سرگودھا سے متعلق سنگین آڈٹ اعتراضات تفصیلی غور و خوض کا مرکز رہے۔
آڈٹ رپورٹس میں نشاندہی کی گئی کہ چانسلر کی حتمی منظوری کے بغیر افسران کو لیٹ سٹنگ الاؤنس، ڈین/چیئرمین الاؤنس اور موبائل الاؤنس کی ادائیگیاں کی گئیں، جبکہ افسران و طلبہ سے واجب الادا رقم، کینٹینوں اور دکانوں کی بروقت نیلامی نہ ہونے سے قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ لیہ سب کیمپس کے واجبات، جی ایس ٹی انوائسز کے بغیر اسٹیل کی خریداری، اصل رقم و منافع کی تاخیر سے جمع آوری، ٹھیکیداروں سے بجلی کے واجبات اور گیسٹ ہاؤس کرایوں کی عدم وصولی جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔
کمیٹی نے مالیاتی بدنظمی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے تمام تر ابہامات کا خاتمہ کر کے شفاف نظام وضع کیا جائے۔ متعدد وصولیوں کے معاملات میں انتظامیہ کو بقایا جات کی جلد از جلد وصولی کے لیے 30 روز کی حتمی مہلت دی جاتی ہے۔”
اجلاس میں کمیٹی اراکین جاوید علاؤالدین ساجد، راؤ کاشف رحیم خان، رئیس نبیل احمد، میاں یاور زمان، ولایت شاہ، رانا منور حسین اور رخسانہ کوثر (ایم پی ایز) سمیت سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، متعلقہ جامعات کے وائس چانسلرز، آڈٹ اور فنانس محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ آڈٹ محکمے کی جانب سے تصفیے کے لیے سفارش کردہ آڈٹ پیراز کو نمٹا دیا گیا۔



