آئی ایم ایف سستی بجلی دینے کی اجازت نہیں دے رہا، اویس لغاری کا بڑا انکشاف

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کو مخصوص اوقات میں صارفین کو سستی بجلی فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا، تاہم حکومت اس سہولت کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل مذاکرات کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ "بیٹری سٹوریج فلیکسیبلٹی 2026” کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اور ماہرین کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ مخصوص اوقات میں سستی بجلی فراہم کرنے سے ملک میں بجلی کی کھپت اور استعمال میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں ایک کمپنی نے اسی سہولت کے ذریعے بجلی کی فروخت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے تمام حقائق رکھ کر انہیں اس طریقہ کار پر راضی کرے گی۔
وفاقی وزیر نے ملک میں جاری توانائی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے اہم اعلانات کیے کہ پاکستان کا پہلا جامع مربوط توانائی پلان آئندہ سال اپریل میں سامنے لایا جائے گا۔ مستقبل میں شہری دن کے وقت پیدا ہونے والی شمسی توانائی (سولر) کو اسٹور کر کے رات کے وقت استعمال کر سکیں گے۔ اس وقت ملک کی کل بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 55 فیصد ہو چکا ہے، جسے 2035 تک 90 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صرف سولر اور ونڈ سے 90 فیصد کلین انرجی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکتا، بلکہ بیٹری سٹوریج سسٹم ہی گرڈ کو متوازن رکھنے اور بجلی کو قومی اثاثہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس مقصد کے لیے حکومت بیرونی بیٹریوں کی درآمد کے بجائے ملک کے اندر مقامی مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ اور بیٹری مینجمنٹ سافٹ ویئر کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔



