بدین: شادی لارج واہ نہر میں مردہ جانور پھینکنے کا سلسلہ جاری،شہری سراپا احتجاج

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن / جانو ڈاٹ پی کے)اکرم واہ سے نکلنے والے شادی سب ڈویژن کے شادی لارج واہ میں، ڌٻڻي ہیڈ ریگیولیٹر آر ڈی 112 سے لے کر شادی لارج شہر، ایل بی او ڈی سائفن، ایف ایف آر چک روڈ موری آر ڈی 124/125، سگنل چک ریگیولیٹر آر ڈی 150، گاؤں رسول بخش لنڈ، گاؤں حاجی اسحاق ڈھیرو آر ڈی 160/165 تک ایک طویل عرصے سے بغیر کسی روک ٹوک کے نہر کے پانی میں مردہ جانور پھینکنے کا سلسلہ جاری ہے
مردہ جانوروں میں بھینس، گائے، بکری سمیت دیگر جانوروں کی لاشیں بھی شامل ہیں، جنہیں مسلسل نہر میں پھینکا جا رہا ہے۔ ان غیر انسانی حرکات کے باوجود نہر پر مقرر تمام عملہ جن میں ایس ڈی او سرويئر داروغہ بیلدار اور ٹنڈیل شامل ہیں جو کے ڈیوٹیوں سے غیر حاضر ہیں ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی ہے اسی طرح یونین کونسلوں اور ٹاؤنوںز کے منتخب کونسلرز، چیئرمین اور وائس چیئرمین نے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا اس لاپرواہی کے باعث ہزاروں مقامی رہائشی جراثیم زدہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں علااقے کے زمینداروں ہاریوں اور سماجی شخصیات رسول بخش لنڈ، مولانا محمد اکرم جٹ، سیٹھ نذیر احمد بروہی، مولانا سائیں عبدالستار ڈھیرو، خیر محمد ملاح ماسٹر ثناءاللہ بروہی اور دیگر نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محکمہ انہار سندھ کے افسران آئی جی سندھ پولیس اور ڈی سی ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر انسانی عمل یعنی شادی لارج واہ کے صاف پانی میں مردہ جانور پھینکنے کا فوری نوٹس لیا جائے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور عوام کو آلودہ پانی اور بیماریوں سے محفوظ رکھا جائے



