عوامی تحریک کی جانب سے رسول بخش پلیجو کی8ویں برسی جنگشاھی ٹھٹھہ میں منائی گئی

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن/جانوڈاٹ پی کے)عوامی تحریک کی جانب سے رسول بخش پلیجو کی آٹھویں برسی جنگشاھی ٹھٹھہ میں منائی گئی۔عوامی تحریک کے سربراہ، سندھ کے عظیم انقلابی مفکر اور مظلوم قوموں و طبقات کی مضبوط آواز رسول بخش پلیجو کی آٹھویں برسی کا جلسہ عام جنگشاہی کے قریب ان کے آبائی گاؤں منگر خان پلیجو میں منعقد کیا گیا
جلسہ عام میں پورے سندھ اور ملک سے ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ سندھ کے یکتائے روزگار عالم اور دانشور کو آٹھویں برسی کے موقع پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
سندھیانیوں نے پریڈ کے ذریعے اپنے قائد اور عظیم دانشور مفکر رسول بخش پلیجو کو سلامی پیش کی۔ سندھیانی ثقافتی گروپ کی جانب سے قومی گیتوں پر ٹیبلو پیش کر کے رسول بخش پلیجو کو ثقافتی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
جلسہ عام میں اٹھارہویں آئینی ترمیم اور امریکی سامراجی دہشت کے خلاف قراردادیں منظور کی گئیں۔ جلسہ عام میں قرارداد منظور کی گئی کہ ملک کی بنیاد 23 مارچ 1940 کی پاکستان قرارداد اور بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر کے تحت رکھی جائے۔
جلسہ عام میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کو سندھ کو ٹکڑے کرنے کی سازش قرار دے کر اسے مسترد کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔
آٹھویں برسی کے جلسہ عام میں عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈوکیٹ وسند تھری، مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ ساجد حسین مہیسر، سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سمون، عوامی جمہوری پارٹی کے صدر سراج سیال، عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کے وفاقی سیکریٹری جنرل بخشل تھلھو، سرائیکستان قومی اتحاد کے سربراہ خواجہ غلام فرید کوریجا، عوامی ورکرز پارٹی سندھ کے صدر علی نواز نظامانی، آرٹسٹ شیما کرمانی، سندھ بار کونسل کے ممبر ایڈوکیٹ رشید راجڑ، عوامی تحریک کے مرکزی رہنما ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی، عبدالقادر رانٹو، لال جروار، ماہنور ملاح، نور نبی پلیجو، ایڈوکیٹ سجاد احمد چانڈیو سمیت مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں اور ادبی شخصیات نے خطاب کیا۔
اس موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈوکیٹ وسند تھری سمیت دیگر رہنماؤں نے کہا کہ رسول بخش پلیجو تیسری دنیا کے مظلوموں کی انقلابی جدوجہد کے رہنما ہیں۔ انہوں نے سندھ جیسے خطے میں عالمی انقلابی مزدور تحریک کو نظریاتی بنیاد دی، سندھ کی خواتین کو سیاست میں لا کر سندھ میں انقلاب برپا کیا اور سندھ کی تاریخ میں غیر معمولی کام کیے۔ انہوں نے محنت کش عوام کو سیاست کی قیادت دی اور ساری زندگی ملک کو سامراجی چنگل سے نکالنے کے لیے علمی و عملی جدوجہد کی۔ آمروں کا مقابلہ کیا۔
رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ آج بھی پاکستان میں مارشل لا نافذ ہے۔ پیکا ایکٹ جیسے کالے قوانین پاس کر کے اظہارِ رائے کی آزادی کا گلا گھونٹا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے تعاون سے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم پاس کر کے عدالتوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ اب 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سندھ کو ٹکڑے کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ 28ویں آئینی ترمیم جناح کے پاکستان کا قتل ہو گی۔ اس ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، ملک کو ایس آئی ایف سی کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ پاکستان کی مظلوم قوموں کے وسائل بیچے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کے وسائل اور دریا کی نیلامی میں وفاقی حکومت کے ساتھ ہے۔ پیپلز پارٹی اقتدار کے لیے سندھ کا سودا کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں انتہا پسندی کو فروغ دیا گیا ہے۔ جب بھی ملک پر غیر جمہوری قوتیں حاوی ہوتی ہیں تو انتہا پسندی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ملک میں بدترین آمریت مسلط ہے، جس کی وجہ سے سندھ مزید خطرے میں ہے۔
عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ ساجد حسین مہیسر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کو کھا لیا ہے۔ حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں۔
عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار نے کہا کہ زرداری مافیا نے اقتدار کے لیے سندھ کا سودا کیا ہے۔ بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانے کے لیے سندھ کے وسائل کا سودا کیا گیا ہے۔
سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سمون نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت نے کاروکاری کا ناسور پیدا کر کے سندھی خواتین کا قتلِ عام کیا ہے۔ سندھ میں روز خواتین کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔
بخشل تھلھو نے کہا کہ رسول بخش پلیجو نے سرمایہ داری اور جاگیرداری کے خلاف جنگ کی۔
خواجہ غلام فرید کوریجا نے کہا کہ رسول بخش پلیجو نے آمروں کے خلاف جنگ کی اور ملک کی مظلوم قوموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔
سراج سیال نے کہا کہ سندھ میں منشیات کو ہاتھوں ہاتھ فروغ دیا گیا ہے۔
جلسہ عام کا آغاز عوامی تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے رسول بخش پلیجو کی آخری آرام گاہ پر پھولوں کی چادر چڑھا کر اور سندھ کے دانشور رسول بخش پلیجو کو خراجِ عقیدت پیش کر کے کیا گیا۔



