کراچی:پی اے سی کا58 ارب روپے کا ریکارڈ آڈٹ کیلئے فراہم نہ کرنے پر 6 ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کیخلاف کاروائی کا حکم

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)محکمہ خوراک پی اے سی کو 58 ارب روپے کا ریکارڈ آڈٹ کے لئے فراہم نہیں کرسکا ہے جس پر پی اے سی نے بے ضابطگیوں کے خدشے کے پیش نظر 58 ارب روپے کا آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے 6 ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا ہے۔ منگل کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار احمد کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں محکمہ خوراک کی سال 2024ع اور 2025ع کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری محکمہ خوراک، ڈی ایف سیز، ڈی جی سندھ فوڈ اتھارٹی و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں آڈٹ کے اعتراض اٹھایا کے محکمہ خوراک کے مختلف اضلاع کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز نے 58 ارب روہے سے زائد کا ریکارڈ آڈٹ کو فراہم نہیں کیا ہے جن میں سے ڈی ایف سی لاڑکانہ نے 21271 ملین، ڈی ایف سی خیرپور نے 16819ملین ، ڈی ایف سی شکارپور نے 9886 ملین، ڈی ایف سی ملیر نے 7221 ملین، ڈپٹی ڈاریکٹر فوڈ کراچی نے 3081 ملین، ڈی ایف سی مٹھی نے 254 ملین، ڈی ایف سی نوشھروفیروز نے 120 ملین روپے آڈٹ کا ریکارڈ شامل ہے جو آڈٹ کے لئے فراہم نہیں کیا گیا ہے اور محکمے کی ڈی اے سی کیجانب سے ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے متعلقہ ڈی ایف سیز کے خلاف کاروائی کی سفارش کی گئی تھی جو تاحال کاروائی عمل میں نہیں آئی ہے ۔ چیئرمین پی اے سی نے استفسار کیا کے ڈی ایف سیز کیجانب سے 58 ارب روپے کا ریکارڈ آڈٹ کے لئے کیوں نہیں فراہم کیا گیا ہے جبکے آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرنا یہ ظاھر کرتا ہے کے گھپلے اور بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور یہ عمل غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ ڈی ایف سی خیرپور نے پی اے سی کو بتایا کے اینٹی کرپشن ریکارڈ سیل کرکے اپنے ساتھ لے گئی ہے اس لئے آڈٹ کو ریکارڈ فراہم نہیں کیا جاسکا ہے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کے نیب کا ادارہ ہو یا اینٹی کرپشن ہو وہ اگر ریکارڈ ساتھے لے جاتے ہیں تو ریکارڈ کی کاپی متعلقہ افسران اور محکمے کو دی جاتی کے ایسا آر بی او ڈی معاملے پر بھی محکمے نے بھانا بنایا تھا۔پی اے سی نے بے ضابطگیوں کے خدشے کے پیش نظر 58 ارب روپے کا آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے متعلقہ 6 ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کے خلاف کاروائی کرنے کا محکمہ خوراک کو حکم دے دیا ہے۔ اجلاس میں اس بات کا بھی انکشاف سامنے آیا کے محکمہ خوارک 2023ع میں جامشورو،سکھر، عمرکوٹ، حیدرآباد اضلاع میں 32 ارپ روپے کی گندم کی خریداری کا ٹارگیٹ پورا نہیں کرسکا اور محکمے نے ٹارگیٹ پورا نہ کرنے کا جواز اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت بھتر ہونے کی وجہ سے سرکاری طور پر گندم کی خریداری نہ ہونا بتایا۔اجلاس میں محکمہ خوراک نے رواں مالی سال میں سندھ حکومت نے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کے مقرر حدف سے صرف 81 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کااعتراف کیا ہے۔ چیئرمین پی اے سی نے استفسار کیا کے رواں سال کتنی گندم خرید کی گئی ہے جس ہر محکمہ خوراک نے پی اے سی کو بتایا کے رواں سال سندھ حکومت نے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریداری کا حدف مقرر کیا تھا اور محکمے نے صرف 81 ہزار میٹرک ٹن گندم خرید کی گئی ہے کیوں کے مارکیٹ میں گندم کی قیمت سرکاری ریٹ سے زیادہ ہونے کی وجہ سے آبادگاروں نے گندم مارکیٹ میں فروخت کی ہے۔ چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے محکمہ خوراک نے تاخیر سے خریداری سینٹرز قائم کیوں کئے اور جن ساڑھے تین لاکھ آبادگاروں کو 56 ارب روپے کی سبسڈی سے گندم کے فصل کے لئے مفت ڈی اے پی اور کھاد فراہم کی گئی تھی ان آبادگاروں کو محکمے نے کیوں نہیں پابند بنایا کے وہ آبادگار سرکار کو گندم دینے کے لئے پابند ہونگے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کے سندھ حکومت اربوں روہے کے قرضے سے اس لئے سرکاری ریٹ پر گندم خرید کرتی یے تاکے گندم کا اسٹاک موجود ہو اور شارٹیج کی صورت میں وہ سرکاری گوداموں سے گندم فلور ملز کو فراہم کی جائے تاکے آٹا مھنگا نہ ہو اب فلور ملز نے مارکیٹ سے گندم خرید کی ہے اور آٹا مھنگا فروخت ہو رہا ہے اب شارٹیج کی صورت میں کیا پہر یوکرین سے گندم امپورٹ کی جائے گی؟



